خطبات محمود (جلد 25) — Page 680
خطبات مج محمود 680 $1944 صرف أن ذرائع سے کام لینا چاہیے۔ناجائز اور گندے اور ناپاک ذرائع جن کا اسلام د ہے، جن سے اُس نے بڑی شدت کے ساتھ منع کیا ہے اُن کو اختیار کرنا دین کی ہتک کرنا اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں موردِ غضب اور قہر بننا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لیے دنیا کا مال کمانا اس لیے جائز رکھا ہے کہ دنیا اُس کے دین کے لیے مددگار ہو۔اگر کوئی شخص دین کو نظر انداز کر دیتا ہے تو اُس کا دنیا کمانا اُس کے لیے لعنت کا ایک طوق ہے جو اسے خدا تعالیٰ کے حضور ایک مجرم کی حیثیت میں کھڑا کرے گا۔انسان کو ان گندے ذرائع اختیار کرنے کا لالچ صرف اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کو دیکھتا ہے کہ وہ بھی ایسا کر رہے ہیں۔جب وہ اپنے کسی ہمسایہ یا اپنے کسی دوست یا اپنے کسی واقف تاجر کو اس قسم کے ذرائع اختیار کرتے ہیں ہوئے دیکھتا ہے تو اُس کے دل میں بھی خیال آجاتا ہے کہ میں بھی اس ذریعہ سے دولت کما دیکھوں۔حالانکہ اگر وہ جھک مارتا ہے تو کیا تم بھی جھک مارنے لگ جاؤ گے۔اگر کل کو وہ شراب میں پینے لگ گیا تو کیا تم بھی شراب پینے لگ جاؤ گے ؟ اور کہو گے کہ میں شراب کیوں نہ پیوں، میرا فلاں ہمسایہ جو شراب پیتا ہے۔اسی طرح دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو سور کھاتے ہیں۔پھر کیا تم ان کو دیکھ کر سور بھی کھانے لگ جاؤ گے ؟ اور کہو گے کہ ہم ان سے کیوں پیچھے رہیں؟ دنیا می میں بعض مردار خور قومیں ہیں جو مر دار اور خون تک کھا جاتی ہیں۔کیا ایسی حالت میں تم بھی مردار کھانے لگ جاؤ گے اور اپنے دین کو تباہ کر لو گے؟ ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک غریب شخص کسی گاؤں میں رہتا تھا۔وہاں کا نمبر دار ایک دن اس کے پاس آیا اور بعض بر تن اس سے مانگ کر لے گیا کیونکہ اس کے ہاں شادی کی من تقریب تھی۔اُس شخص نے سمجھا کہ نمبر دار چند روز تک میرے بر تن مجھے واپس کر دے گا مگر جیسے جابر زمینداروں کا طریق ہوتا ہے اُس نے بر تن واپس نہ کیے یہاں تک کہ مہینہ دو مہینے گزر گئے۔ایک دن وہ اتفاقاً اُسی زمیندار کے گھر جانکلا۔تو اُس نے دیکھا کہ وہ اُسی کے پیالہ میں ساگ کھا رہا ہے۔یہ دیکھ کر اسے سخت جوش آیا اور زمیندار سے کہنے لگا چودھری ! یہ بھی کوئی ہے انصاف کی بات ہے کہ تم مجھ سے بر تن مانگ کر لائے اور پھر کئی مہینے گزرنے کے باوجود تم نے می واپس نہ کیے بلکہ آج تم میرے پیالہ میں ہی ساگ کھا رہے ہو! ! پھر ایک گالی دے کر کہنے لگا ہے