خطبات محمود (جلد 25) — Page 679
خطبات محمود 679 $1944 دوسرے کو دھوکا اور فریب دے دیتے ہیں۔مثلاً ایک تاجر ایسا ہے جس کے پاس سو من غلہ ہے۔ایک دوسرے تاجر کو یہ بات معلوم ہو جاتی ہے جس کے پاس پہلے ہی دو تین سو من غلہ موجود ہے اور وہ اُس کے پاس آکر کوشش کرتا ہے کہ اُس سے بھی سو من غلہ خرید لے تاکہ غله صرف اُسی کے پاس رہے اور کسی کے پاس نہ رہے۔وہ اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اپنا ہی ایک سو من غلہ میرے پاس فروخت کر دو۔اِس پر اگر دوسرا شخص انکار کر دے تو وہ بالکل حق بجانب ہو گا۔کیونکہ وہ اُس کے پاس غلہ فروخت کرنے سے اس لیے انکار نہیں کرتا کہ وہ خود اشتکار کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لیے انکار کرتا ہے کہ اگر میں نے غلہ فروخت کر دیا تو اس دوسرے تاجر کو احتکار کرنے کا زیادہ موقع مل جائے گا۔پس وہ احتکار کے لیے نہیں بلکہ احتکار کو روکنے کے لیے غلہ فروخت کرنے سے انکار کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص ایسا ہے جس کے پاس پہلے ہی کافی غلہ موجود ہے۔مگر اس کا منشاء یہ ہے کہ ارد گرد سے سب غلہ اکٹھا کر لے اور اسے گراں قیمت پر فروخت کرے۔پس چونکہ وہ احتکار کے لیے نہیں بلکہ دوسرے کو احتکار سے بچانے کے لیے غلہ فروخت کرنے سے انکار کرتا ہے اس لیے اُس کا یہ فعل اسلامی تعلیم کے رو سے بالکل جائز اور درست ہو گا۔غرض احتکار کی اسلام میں نہایت سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور یہ ایک ایسا عیب ہے جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔آجکل جنگ کی وجہ سے تاجروں میں خصوصیت سے احتکار پایا جاتا ہے۔اُن کے پاس کپڑا موجود ہوتا ہے مگر وہ انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کپڑا نہیں۔اس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جب کپڑا اور زیادہ مہنگا ہو گا تب ہم فروخت کریں گے۔اسی طرح لکڑی موجود ہوتی ہے مگر جب کوئی لکڑی کا خریدار آتا ہے تو اُس کے سامنے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس لکڑی نہیں۔کو مکہ موجود ہوتا ہے ہے مگر جب کو ئلہ مانگنے کے لیے آتا ہے تو انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئلہ نہیں۔شریعت کے رو سے یہ بالکل ناجائز ہے۔اور ہر شخص جو احتکار کے نتیجہ میں روپیہ کماتا ہے اُسے اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ وہ حرام خوری کا ارتکاب کرتا اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر بھڑ کاتا ہے۔اللہ تعالی نے دنیا کمانے کے جو جائز ذرائع رکھے ہوئے ہیں ؟