خطبات محمود (جلد 25) — Page 681
خطبات محمود 681 $1944 تم مجھے بھی ایسا ویسا سمجھنا اگر میں تمہارا برتن نہ لے جاؤں اور اُس میں پاخانہ ڈال کر نہ کھاؤں۔اب دیکھو اُس نے ایک بات تو کہی مگر سوائے اپنی ناک کاٹنے کے اُس نے اور کیا کیا؟ اُس نے چاہا تو یہ تھا کہ دوسرے کو ملامت کرے مگر اپنی بیوقوفی کی وجہ سے خود ہی ذلیل ہو گیا۔تو وہ شخص جو کہتا ہے کہ چونکہ فلاں ایسا کرتا ہے اس لیے میں نے بھی ایسا ہی کیا وہ اپنی بیوقوفی کا آپ اقرار کرتا ہے اور اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ چونکہ فلاں نے جھک ماری اس لیے میں بھی جھک مارتا ہوں یا چونکہ فلاں نے نجاست کھالی اِس لیے میں بھی اس کے کھانے سے باز نہیں رہ سکتا۔اگر کوئی اور شخص ایسے فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو بجائے اس کے کہ تم اس کی نقل کرو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ خدا کا نا فرمان ہے۔خدا کے احکام کا دشمن ہے۔اس کے دل میں ایمان کا ایک ذرہ بھی نہیں۔اُسے اپنی موت کا کوئی یقین نہیں۔اسے جنت اور دوزخ پر کوئی ہے ایمان نہیں۔اگر تمہارا بھی یہی حال ہے تو بے شک تم بھی ایسا ہی کر لو۔اور اگر تم اپنے دل میں ایمان رکھتے ہو تو تمہیں گندے افعال میں دوسرے کی متابعت کا خیال ہی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔دسویں میں نے بتایا ہے کہ مزدور کو اُس کا حق دو اور وقت پر دو۔یہ بھی ایک ایسا حکم ہے جس کی طرف عام طور پر توجہ سے کام نہیں لیا جاتا۔یورپ میں تو مزدوروں نے اپنی تم کمیٹیاں بنائی ہوئی ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے حقوق کے لیے جد و جہد کرتے رہتے ہیں۔لیکن ہندوستان میں یہ بات نہیں۔یہاں اول تو لوگ مزدور کو اُس کے حق سے کم دیتے ہیں اور پھر جو کچھ دیتے ہیں وہ بھی وقت پر نہیں دیتے۔اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ نہ صرف مزدور طبقہ کی حق تلفی ہو رہی ہے بلکہ مالکوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔گویا اس فعل کے نتائج دُہرے طور پر نکل رہے ہیں۔مزدور بھی نقصان اٹھا رہے ہیں اور مالک بھی نقصان اٹھارہے ہیں۔کیونکہ مالکوں کو مزدوروں سے ہی کام لینا پڑتا ہے اور جب اُن کے حقوق ادا نہیں کیے جاتے تو وہ ہیں خوش دلی سے کام نہیں کرتے۔جس کا اثر اُس کام پر پڑتا ہے جو اُن کے سپرد کیا جاتا ہے اور اِس طرح مالک بھی مزدور کی حق تلفی کر کے اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یورپ میں میں نے دیکھا ہے کوئی شخص چلتا ہوا نظر نہیں آتا۔یوں معلوم ہوتا ہے