خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 676 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 676

خطبات محمد محمود 676 $1944 بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے خصوصاً تاجروں اور صناعوں پر کیونکہ تاجروں اور صناعوں کولوگوں میں زیادہ رسوخ حاصل ہوتا ہے۔انہیں ایک دوسرے سے ملنے کے زیادہ مواقع ملتے رہتے ہیں اور وہ اگر چاہیں تو اپنے اس رسوخ سے دین کی خاطر بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پس تاجروں اور صناعوں کا وجود مذہب کی تائید اور دین کی تقویت کا بہت زیادہ موجب بن سکتا ہے۔اور اگر وہ صرف دنیا کمانے میں اپنے آپ کو مشغول نہ رکھیں تو اسلامی نقطہ نگاہ سے وہ بہت کچھ ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ساتویں اسلام نے وزن اور ماپ وغیرہ کی درستی کی ہدایت کی ہے۔یہ نقص بھی ہے تاجروں میں خاص طور پر پایا جاتا ہے۔پہلے تو وہ صرف ڈنڈی مارا کرتے تھے مگر اب کئی قسم کے تم بے بنا لیے گئے ہیں۔پہلے بھی جب اسلام میں تجارت کا زور تھا لوگوں میں یہ نقص پیدا ہو گیا ہے چنانچہ پرانی کتب میں بھی ذکر آتا ہے کہ پرانے زمانہ میں بھی تین قسم کے بے ہوا کرتے تھے۔ایک لینے کے لیے، ایک دینے کے لیے اور ایک افسروں کو دکھانے کے لیے۔پس پہلے بھی یہ نقص تھا مگر اس زمانہ میں اس نقص نے بہت بڑی اہمیت اختیار کر لی ہے۔اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ مومن کو چاہیے وہ تول اور ماپ میں کسی قسم کی کمی نہ کرے۔جب کوئی چیز میں لے تو تول کر لے اور جب کوئی چیز دے تو تول کر دے۔کسی قسم کی دھوکا بازی اور فریب اسلام میں جائز نہیں ہے۔اور اگر کوئی تاجر یا صناع ایسا کام کرتا ہے تو اس کا کام محض دنیا داری ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب نہیں بلکہ اُس کی ناراضگی کو بھڑ کانے کا موجب ہے۔جب وہ اس قسم کے دھوکا کے بعد کوئی مال کما کر اپنے گھر میں لے آتا ہے تو حرام مال ہوتا ہے۔اور ایسا ہی ہوتا ہے جیسے چوری اور ڈاکہ سے حاصل کیا ہو ا مال ہو۔چاہے اُس نے دکان پر ہی بیٹھ کر کیوں نہ حاصل کیا ہو۔آٹھویں دھوکا، فریب اور بناوٹ سے اسلام نے نہایت شدت کے ساتھ منع کیا ہے۔یہ نقص بھی ایسا ہے جس کا ازالہ نہایت ضروری ہے۔ہندوستان میں تو یہ مرض اس قدر پھیلا ہے ہوا ہے کہ کوئی چیز دھوکا اور بناوٹ سے نہیں بچی۔گھی فروخت کریں گے تو اس میں چربی یا تیل میں وغیرہ ملا کر، تیل بیچیں گے تو وہ خالص نہیں ہو گا۔بلکہ اُس میں بعض اور تیلوں کی