خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 675 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 675

$1944 675 خطبات محمود یہاں تک کہ مر گیا اور اُس کا بیٹا جاہل کا جاہل ہی رہا۔تو اسلام اس بات کو جائز قرار نہیں دیتا۔اسلام کہتا ہے کہ تم علم کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھو بلکہ اُسے وسیع کرو اور دوسرے لوگوں میں پھیلاؤ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہے بعض علم اور بعض پیشے ایسے ہیں جن میں ایک حد تک اور ایک وقت تک اخفاء جائز ہوتا ہے مگر ہمیشہ کے لیے اخفاء جائز نہیں ہوتا۔یورپ میں ادویہ کو پیٹنٹ (PATENT) کرانے کا ایک نہایت ہی مفید طریق جاری ہے۔وہ کہتے ہیں اگر کوئی شخص ایجاد کرے تو چالیس سال تک وہ اس سے فائدہ اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اس کی نقل کرے۔لیکن چالیس سال کے بعد اجازت ہونی چاہیے کہ سب لوگ اُس سے فائدہ اٹھائیں۔در حقیقت یہ ایک بہت ہی اچھا طریق ہے جو یورپ والوں نے ایجاد کیا ہے کہ وہ کچھ وقت موجد کو دے دیتے ہیں کہ وہ اُس میں اپنی ایجاد سے فائدہ اٹھائے اور پھر ساری دنیا میں اُس کو پھیلا دیتے ہیں تاکہ اور لوگ بھی اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو اٹھا لیں۔اسی طرح صناع اور تاجر ہے اگر اپنی صنعت اور تجارت کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی یہ پیشے سکھا دیں یا ان پیشوں کے سیکھنے میں اُن کی مدد کریں تاکہ دوسرے شہروں یا دوسرے ملکوں میں صنعت و حرفت اور تجارت کو فروغ حاصل ہو تو یہ بھی ایک رنگ کی زکو ہو گی جو اُن کی تجارت اور صنعت کو پاک کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔تَعَاوُن عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقوی میں تجارتی کمیٹیاں اور صناعوں کی کمیٹیاں بھی شامل ہیں کہ ایک دوسرے کے مال کے فروخت کرنے میں مدد دیں اور ایک دوسرے کی تجارتوں کے فروغ میں مدد دیں۔مسلمان عموماً تجارت میں اس لیے نقصان اٹھاتے ہیں کہ ان کی تجارتوں کو نہ دوسرے نجار سے مد د ملتی ہے اور نہ گاہکوں سے۔اس کے بالمقابل ہندو تاجروں کو دونوں طرف سے مدد ملتی ہے اور وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔چھٹے میں نے بتایا تھا کہ اسلام نے یہ اصل پیش کیا ہے کہ حَيْثُ مَا كُنتُم فَوَلُّوا وجُوهَكُمْ منظرہ۔اس میں یہ گر بتایا گیا ہے کہ صناع اور تاجر جہاں کہیں ہوں اُن کی پالیسی اور شَطْرَهُ اُن کا طریق ایسا ہونا چاہیے کہ اُن کے کام کے نتیجہ میں اسلام کو غلبہ حاصل ہو ، دین کی طاقت بڑھے اور مذہب کی دنیا میں زیادہ سے زیادہ اشاعت ہو۔اس اصل کے ماتحت ہر شخص پر