خطبات محمود (جلد 25) — Page 677
خطبات محمود 677 $1944 ملاوٹ ہو گی۔یہی باقی تمام چیزوں کا حال ہے۔سب ہی میں دھوکا اور فریب سے کام لیا جاتا ہے اور خالص چیز خریداروں کو مہیا نہیں کی جاتی۔غیر ملکوں سے تو اب یہ عیب اٹھتا جا رہا ہے۔یورپ میں بھی بہت کم رہ گیا ہے۔مگر ہندوستان میں ابھی یہ نقص کافی حد تک پایا جاتا ہے۔یہ نقائص صرف اسی زمانہ میں نہیں بلکہ اسلامی حکومت کے زمانہ میں بھی یہ نقائص پائے جاتے تھے اور انہی کو دور کرنے کے لیے اسلامی حکومت کی طرف سے محتسب مقرر تھے۔ہم نے بھی مرکز میں ایک محتسب اسی قسم کے کاموں کی نگرانی کے لیے رکھا ہوا تھا۔غرض کئی قسم کے دھوکوں اور فریبوں سے اشیاء کو خراب کیا جاتا اور بجائے خالص چیز کے ناقص اور گندی امینی اشیاء لوگوں کو مہیا کی جاتی ہیں۔میرے پاس عربی کی ایک کتاب ہے جو دو تین سو صفحوں کی ہے اور جس میں بازار کے تمام ہتھکنڈوں کا پوری تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔وہ کتاب در حقیقت اسلامی زمانہ میں محتسب کی راہنمائی کے لیے لکھی گئی تھی۔چنانچہ جب کسی شخص کو اس ڈیوٹی پر مقرر کیا جاتا ہے تو اُسے بتایا جاتا تھا کہ لوگوں کی طرف سے چیزوں کو کس طرح خراب کیا جاتا ہے اور ہمیں ان خرابیوں کا کس طرح انسداد کرنا چاہیے۔یا کس طرح معلوم کرنا چاہیے کہ ان چیزوں میں ہے ملاوٹ اور دھوکا بازی سے کام لیا گیا ہے۔گویا وہ محتسب کا نصاب تعلیم تھا جسے پڑھا کر اسے میں احتساب کے کام پر مقرر کیا جاتا تھا تا کہ وہ خالص چیزیں لوگوں کے لیے مہیا کرے اور انہیں ہم دھوکا بازی کا شکار ہونے سے بچائے۔اس کتاب کو پڑھ کر حیرت آجاتی ہے کہ کوئی پیشہ ایسا نہیں جس میں دھوکا اور فریب کا کوئی نہ کوئی رستہ پیدا نہ کر لیا گیا ہو۔پھر اس دھوکا اور فریب کو چی پہچاننے کے لیے کئی کئی قسم کی تراکیب بتائی گئی ہیں۔مثلاً بتایا گیا ہے کہ عنبر کو لوگ اس طرح ہے خراب کرتے ہیں اور اِس اِس طریق پر معلوم کیا جاسکتا ہے کہ عنبر خالص ہے یا اُس میں بعض اور چیزوں کی ملاوٹ ہے۔اسی طرح اس میں بتایا گیا ہے کہ لوگ گھی کو کس طرح خراب کرتے ہیں، موم کس طرح خراب کرتے ہیں۔تیل کو کس طرح خراب کرتے ہیں، لوہے کو کس طرح خراب کرتے ہیں اور پھر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب لوگ ان چیزوں کو خراب کر دیں تو تم کس طرح ان خرابیوں کو معلوم کر سکتے ہو۔پس یہ بھی ایک بہت بڑا نقص ہے جس کے کو