خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 57

$1944 57 خطبات محمود مر جائیں گے مگر اسے تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔چنانچہ خواب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔جرمن قوم کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ تم ان کو ہمارے حوالے کر دو۔اُس وقت میں خواب میں کہتا ہوں یہ تو بہت تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے۔مگر وہ قوم باوجود اس کے کہ ابھی ایک حصہ اُس کا ایمان نہیں لایا بڑے زور سے اعلان کرتی ہے کہ ہم ہر گز ان کو تمہارے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ہم لڑ کر فنا ہو جائیں گے مگر تمہارے اس مطالبہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔تب میں کہتا ہوں دیکھو! وہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی۔اس کے بعد میں پھر ان کو ہدایتیں دے کر اور بار بار توحید قبول کرنے پر زور دے کر اور اسلامی کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کر کے آگے کسی اور مقام کی طرف روانہ ہو گیا ہوں۔اُس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم میں سے اور لوگ بھی جلدی جلدی ایمان لانے والے ہیں۔چنانچہ اسی لیے میں اس شخص سے جسے میں نے اس قوم میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے کہتا ہوں جب میں واپس آؤں گا تو اے عبد الشکور ! میں دیکھوں گا کہ تیری قوم شرک چھوڑ چکی ہے؟ موحد ہو چکی ہے ؟ اور اسلام کے تمام احکام پر کار بند ہو چکی ہے؟ یہ رویا ہے جو میں نے جنوری 1944ء مطابق صلح 1923 ہش دیکھی اور جو غالباً پانچ اور چھ کی درمیانی شب بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات میں ظاہر کی گئی۔جب میری آنکھ کھلی تو میری نیند بالکل اُڑ گئی اور مجھے سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی۔کیونکہ آنکھ کھلنے پر مجھے یوں محسوس ہو تا تھا گویا میں اردو بالکل بھول چکا ہوں اور صرف عربی ہی جانتا ہوں۔چنانچہ کوئی گھنہ بھر تک میں اس رویا پر غور کرتا اور سوچتا رہا۔مگر میں نے دیکھا کہ میں عربی میں ہی غور کرتا تھا ؟ اور اسی میں سوال و جواب میرے دل میں آتے تھے۔اس رویا میں تین پیشگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک پیشگوئی تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا میں نے ہی کی ہے یا کسی سابق غیر معروف نبی نے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کس نبی کی پیشگوئی ہے اور آیا دنیا کے سامنے اس رنگ میں یہ پیشگوئی پیش بھی ہو چکی ہے یا نہیں۔لیکن اس کے علاوہ دو اور پیشگوئیوں کی طرف بھی اس میں اشارہ کیا گیا ہے۔پہلی پیشگوئی جس میں یہ ذکر ہے کہ انیس سو سال سے کنواریاں میرا انتظار کر رہی تھیں وہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام کی ایک پیشگوئی ہے جس کا انجیل میں