خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 58

$1944 58 خطبات محمود میں ذکر آتا ہے۔حضرت مسیح فرماتے ہیں جب میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا تو بعض قو میں مجھے مان لیں گی اور بعض قو میں انکار کریں گی۔آپ ان اقوام کا تمثیلی رنگ میں ذکر کرتے ہوئے ہے فرماتے ہیں کہ ان کی مثال ایسی ہی ہو گی جیسے کچھ کنواریاں اپنی اپنی مشعلیں لے کر دولہا کے استقبال کو نکلیں۔وہ دولہا کے انتظار میں بیٹھی رہیں، بیٹھی رہیں اور بیٹھی رہیں۔مگر دولہا نے آنے میں بہت دیر لگائی۔جو عقلمند تھیں، انہوں نے تو اپنی مشعلوں کے ساتھ تیل بھی لے لیا تھا۔مگر جو بیوقوف تھیں انہوں نے مشعلیں تو لے لیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لیا۔جب دولہا نے بہت دیر لگائی تو سب اونگھنے لگیں۔تب وہ، جو بے احتیاط عور تیں تھیں انہوں نے معلوم کیا کہ ان کا تیل ختم ہو رہا ہے اور انہوں نے دوسری عورتوں سے کہا اپنے تیل میں سے کچھ ہمیں بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا ہم تمہیں تیل نہیں دے سکتیں۔اگر دے دیں تو شاید ہمارا تیل بھی ختم ہو جائے۔تم بازار میں جاؤ شاید تمہیں وہاں سے تیل مل جائے۔جب وہ مول لینے کے لیے بازار گئیں تو پیچھے سے دولہا آپہنچا اور وہ جو تیار تھیں اُس کو ساتھ لے کر قلعہ میں چلی گئیں اور دروازہ بند کر دیا گیا۔کچھ دیر کے بعد وہ بے احتیاط عور تیں بھی آئیں اور دروازے کو کھٹکھٹا کر کہنے لگیں ہمارے لیے بھی دروازہ کھولا ہے جائے ہم اندر آنا چاہتی ہیں۔مگر دولہا نے جواب دیا تم نے میرا انتظار نہ کیا، تم نے پوری طرح احتیاط نہ برتی۔اس لیے اب صرف انہیں کو حصہ ملے گا جو چوکس تھیں تمہارے لیے دروازہ ہے نہیں کھولا جاسکتا۔یہ در حقیقت حضرت مسیح ناصری کی اپنی بعثت ثانیہ کے متعلق ایک پیگلوئی تھی جو انجیل میں پائی جاتی ہے۔پس رویا میں میں نے جو یہ کہا کہ "میں وہ ہوں جس میں کے لیے انہیں سو سال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں" اس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے زمانہ میں یا میری تبلیغ سے یا ان علوم کے ذریعہ سے جو اللہ تعالیٰ نے میری زبان اور قلم سے ظاہر فرمائے ہیں اُن قوموں کو جن کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانا مقدر ہے اور جو حضرت مسیح ناصری کی زبان میں کنواریاں قرار دی گئی ہیں ہدایت عطا فرمائے گا اور اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے میں وہ میرے ہی ذریعہ سے ایمان لانے والی سمجھی جائیں گی۔اور یہ جو فرمایا کہ مَثِيْلُهُ وَخَلِيفَتُهُ