خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 56

$1944 56 خطبات محمود طرف توجہ دلاتا ہوں۔چنانچہ اُس وقت میری زبان پر جو فقرہ جاری ہوا وہ یہ ہے اَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِيْلُهُ وَخَلِيفَتُه اور میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی اس کا مثیل اور اس کا خلیفہ ہوں۔جب خواب میں ہی مجھ پر ایک رعشہ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ میری زبان پر کیا جاری ہوا اور اس کا کیا مطلب ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔اُس وقت معامیرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کے آگے جو الفاظ ہیں کہ مثیله میں اس کا نظیر ہوں وَخَلِيفَتُهُ اور اس کا خلیفہ ہوں۔یہ الفاظ اس سوال کو حل کر دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کہ وہ حسن و احسان میں تیر انظیر ہو گا "5 اس کے مطابق اور اسے پورا کرنے کے لیے رہ میری زبان پر جاری ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کا مثیل ہونے اور اس کا خلیفہ ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں میں بھی مسیح موعود ہی ہوں۔کیونکہ جو کسی کا نظیر ہو گا اور اس کے اخلاق کو اپنے اندر لے لے گا وہ ایک رنگ میں اُس کا نام پانے کا مستحق بھی ہو گا۔پھر میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لیے انیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں اور جب میں کہتا ہوں " میں وہ ہوں جس کے لیے انیس سو سال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں"۔تو میں نے دیکھا کہ کچھ نوجوان عور تیں جو سات یا نو ہیں جن کے کے لباس صاف ستھرے ہیں ، دوڑتی ہوئی میری طرف آتی ہیں، مجھے السّلامُ عَلَيْكُمْ کہتی اور ان میں سے بعض برکت حاصل کرنے کے لیے میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور کہتی ہے ہیں "ہاں ہاں ! ہم تصدیق کرتی ہیں کہ ہم انیس سو سال سے آپ کا انتظار کر رہی تھیں"۔اس کے بعد میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جسے علوم اسلام اور علوم عربی اور اس زبان کا فلسفہ ماں کی گود میں اس کی دونوں چھاتیوں سے دودھ کے ساتھ پلائے گئے تھے۔رویا میں جو ایک سابق پیشگوئی کی طرف مجھے توجہ دلائی گئی تھی اس میں یہ بھی خبر تھی کہ جب وہ موعود بھاگے گا تو ایک ایسے علاقہ میں پہنچے گا جہاں ایک تھیل ہو گی اور جب وہ اس جھیل کو پار کر کے دوسری طرف جائے گا تو وہاں ایک قوم ہو گی جس کو وہ تبلیغ کرے گا اور وہ اس کی تبلیغ سے متاثر ہے ہو کر مسلمان ہو جائے گی۔تب وہ دشمن، جس سے وہ موعود بھاگے گا اس قوم سے مطالبہ کرے گا کہ اس شخص کو ہمارے حوالے کیا جائے۔مگر وہ قوم انکار کر دے گی اور کہے گی ہم لڑ کر ہی