خطبات محمود (جلد 25) — Page 542
خطبات محمود 542 $1944 اٹھواتا ہوں بلکہ اگر سامان ساتھ نہ ہو تو قلی کو اپنا رومال دے دیتا ہوں کہ اس کو اٹھا کر میرے ساتھ چلو۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی جائیداد بک گئی، آمدنی جاتی رہی اور بالکل کنگال ہو جانے کے بعد آخر عیسائی ہو گیا۔معلوم نہیں اب وہ شخص زندہ ہے یا نہیں۔دو تین سال ہوئے زندہ تھا۔پس موازنہ کی حس ایک اہم چیز ہے۔بڑے کام کے لیے چھوٹی طاقت خرچ کرنا یہ بھی پاگل پن کی علامت ہے اور چھوٹے کام کے لیے بڑی طاقت خرچ کرنا یہ بھی پاگل پن کی یہ علامت ہے۔پنسل کو اگر دو تین آدمی مل کر اٹھائیں جیسے کھمبا اٹھایا جاتا ہے تو یہ بھی پاگل پن کی علامت ہے۔اسی طرح اگر پہاڑ کی چوٹی کو ایک آدمی ہلا رہا ہو کہ اس کے ہلانے سے وہ پہاڑ گر جائے گا تو اس کو بھی پاگل کہیں گے۔جب ایک کام میں اور اس کام کے کرنے والے انسان ہے کی طاقت میں زیادہ فرق نہ ہو تو ہم اسے غلطی خوردہ کہیں گے۔اور اگر اس کام میں اور کرنے والے کی طاقت میں نمایاں فرق ہو جسے وہ کر ہی نہیں سکتا تو ہم اسے پاگل کہیں گے۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی چیز کے متعلق اندازہ لگاتا ہے کہ 20 ، 25 سیر وزنی چیز ہے جسے وہ اٹھا سکتا ہے ؟ مگر ہو وہ من دو من کی تو ہم اسے غلطی خوردہ کہیں گے کہ اس کو اس چیز کا اندازہ لگانے میں غلطی لگی ہے۔مگر جب بہت بڑی چیز ہو اور اس کا اندازہ بھی بڑا ہو جسے ایک آدمی اٹھا سکتا ہی ہے نہیں مگر وہ اکیلا اٹھانا چاہتا ہو تو اسے پاگل کہیں گے۔اسی طرح ایک چیز کے متعلق ایک شخص سمجھتا ہے کہ من دو من کی ہے اور اُس کو اٹھانے کے لیے دوسرے آدمیوں کو ساتھ ملا لیتا ہے مگر ہو وہ 20 ، 25 سیر کی تو ہم اسے غلطی خوردہ سمجھیں گے کہ اس کو اندازہ لگانے میں غلطی لگی ہے۔دراصل یہ چیز اتنی نہیں تھی جتنی یہ سمجھ رہا تھا۔لیکن اگر وہ اتنی چھوٹی چیز ہو کہ اُسے ایک آدمی آسانی سے اٹھا سکتا ہے جیسے میں نے پنسل کی مثال دی ہے مگر وہ دوسروں کو ساتھ ملا کر اٹھانا چاہتا ہو تو یہ پاگل پن کہلائے گا۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری جماعت کو دیکھنا چاہیے کہ کس قسم کی طاقت استعمال کرنے والا کام اس کے سپر د کیا گیا ہے۔ہمارے سامنے جو کام ہے وہ اتنی بڑی طاقت کا استعمال چاہتا ہے کہ معمولی طاقت ہر گز اس کام کے کرنے پر قادر نہیں ہو سکتی۔بلکہ یہ کام اتنی طاقت اور اتنی قربانی چاہتا ہے کہ اس قسم کے کام کی مثال دنیا میں نہیں ملتی یا کم سے کم می