خطبات محمود (جلد 25) — Page 543
خطبات محمود 543 $1944 اس سے زیادہ قربانی اور اس سے زیادہ طاقت کے محتاج کام کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔اللہ تعالیٰ نے ایسے مذہب کا قیام اور ایسی قوم کو زندہ کرنے کا کام ہمارے سپر د کیا ہے جو ہر جگہ ذلیل اور کمزور ہے۔آج دنیا میں مسلمانوں کی اتنی بھی پوزیشن نہیں کہ دنیا کی حکومتیں آئندہ نظام کے متعلق کوئی فیصلہ کرتے وقت ان سے مشورہ بھی لیں۔بلکہ مسلمانوں کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔آج انگلستان، امریکہ ، روس اور چین یہ چار طاقتیں ہیں جو آئندہ نظام کے متعلق فیصلے کرتی ہیں مگر مسلمانوں کا ان فیصلوں میں کوئی ذکر نہیں ہوتا۔وہ قوم جس کی آج سے چھ سات سوسال پہلے یہ حالت تھی کہ دنیا میں اس کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ تھا، وہ قوم جو یورپ کے مغربی کنارہ سے لے کر ایشیا کے مشرقی کنارے تک حکومت کرتی تھی آج اس کی یہ حالت ہے ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں آئندہ نظام کے متعلق کوئی فیصلہ کرتے وقت اتنا بھی نہیں کرتیں کہ اس سے بھی رائے پوچھ لیں۔گویا اس کی رائے کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں۔جنگ سے پہلے تو بعض مسلمان حکومتوں کو محض تمسخر کے طور پر مشوروں میں بلا بھی لیا جاتا تھا یا بعض دفعہ مصلینا کوئی بات پوچھ لی جاتی تھی۔مگر دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے موقع پر تو اس طرح ہے بھی نہیں پوچھا جاتا۔بلکہ اب صرف اتنا کہا جاتا ہے کہ آئندہ نظام میں ہم تمہاری پرورش کا خیال رکھیں گے۔گویا مشورہ یارائے نہیں لی جاتی صرف پرورش کا وعدہ کیا جاتا ہے۔پہلے مصلحنا میں مشورہ لیا جاتا تھا مگر اب وہ بھی نہیں۔جو قوم اس حالت میں سے گزر رہی ہے ہمارا دعوی ہے کہ ہم اس کو طاقتور بنا دیں گے۔یہ کتنا عظیم الشان کام ہے۔یہ الفاظ کہنے والے اگر امریکن یا تی روی ہوں تو بھی یہ کام بہت بڑا ہے۔مگر کرنے والے بھی چونکہ طاقتور ہوں گے اس لیے ہم نے اس کو پاگل پن نہیں کہیں گے۔لیکن اس کے مقابل میں ہماری یہ حیثیت دنیا میں کسی ایک جگہ ہے بھی نہیں۔ایشیا میں بھی نہیں، ہندوستان میں بھی نہیں، پنجاب میں بھی نہیں۔سارے پنجاب می میں احمدیوں کی آبادی دو تین لاکھ ہے اور سارے ہندوستان میں چار لاکھ اور باہر کی ملا کر پانچ چھ لاکھ احمدیوں کی کل تعداد ہے۔یہ اتنی تھوری تعداد ہے جس کی خود اپنے ملک میں بھی کوئی اہمیت نہیں۔ہمارے صوبہ کی گورنمنٹ احمدیوں کے مفاد، احمدیوں کی دلداری اور