خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 503

خطبات محمود 503 $1944 یہ ایسی قربانی ہے کہ دو تین سال میں بھی جماعت نے اتنی قربانی نہیں کی جتنی کہ اس سال کی ہے۔پس اس کام کے لیے پہلے طوعی تحریک کے ذریعہ چندہ کیا جائے گا اور اگر یہ رقم پوری نہ ہوئی تو پھر وقف جائیداد والی چیز تو بہر حال ہمارے پاس موجود ہی ہے۔لیکن میر انشایہ نہیں ہے کہ ابھی سے اس سکیم کو شروع کر دیا جائے۔کیونکہ اگر یکدم شروع کر دیا جائے تو ہمارے پاس ہے اتنے مبلغ کہاں سے آئیں گے۔ابھی تو ان کے تیار ہونے میں بھی تین چار سال لگ جائیں گے۔سر دست دہلی، کلکتہ اور ممبئی تین جگہیں ہیں جہاں پر کام شروع ہو گیا ہے۔کلکتہ میں جماعت نے چالیس پچاس ہزار کے قریب رقم جمع کرلی ہے۔دہلی میں بھی زمین خریدی جارہی ہے۔بمبئی میں زمین کا انتظام ہو رہا ہے۔میرا ارادہ ہے کہ سر دست وہاں کی جماعت کو زمین کی قیمت قرض کے طور پر دے دی جائے۔پھر کچھ حصہ اُس علاقہ کے احمدیوں سے وصول کیا جائے اور باقی رقم تمام دوسری جماعتوں سے چندہ کر کے لی جاوے۔سب سے مقدم زمین کا خریدنا ہے۔زمین ہو تو اگر ہم چھپر ڈال کر ہی کام شروع کر دیں یا خیمہ لگا کر ہی وہاں مبلغ بیٹھ جائے اور بورڈ لگا دے تب بھی ایک شہرت ہو جائے گی جو اشاعت اسلام اور تبلیغ کا موجب ہو گی اور اس طرح ایک طاقت اور قوت پیدا ہو گی۔بہر حال اس قسم کے مراکز کی اشد ضرورت ہے تاکہ می کثرت سے اشاعتِ اسلام ہو سکے اور لوگوں پر دھاک بیٹھ جائے اور یہ رو پیدا ہو جائے کہ ہندوستان میں اگر طاقتور اور فعال جماعت ہے تو صرف جماعت احمدیہ ہی ہے۔اگر ہم یہ رو پیدا کر دیں تو پھر جب ہمارا مبلغ امریکہ میں یا کینیڈا میں جائے گا اور وہاں کے لوگ کہیں گے کہ آپ کو ہم نہیں جانتے تو جو امریکن یا کینیڈین یہاں ہندوستان میں ہمارے کام کو دیکھ چکے ہوں گے وہ آگے بڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم جانتے ہیں۔ہندوستان میں اگر کام کرنے والی اور زندہ جماعت ہے تو یہی ہے۔پس اس وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ اس وقت ہے کثرت سے غیر ممالک کے لوگ یہاں آئے ہوئے ہیں۔چاہیے کہ بمبئی، کلکتہ اور دہلی میں کم از کم زمین فوراً خرید لی جائے اور پھر وہاں پر قناتیں لگا کر یا چھپر ڈال کر اور بورڈ لگا کر اور مختلف زبانوں کا لٹریچر لے کر ہمارے مبلغ بیٹھ جائیں تاکہ ان مقامات پر احمدیت کے مرکز قائم ہو جائیں۔