خطبات محمود (جلد 25) — Page 502
خطبات محمود 502 $1944 اِس وقت میں کوئی چندہ کی تحریک نہیں کر رہا۔میں یہ اعلان صرف اِس لیے کر رہا ہوں تا کہ جماعت آمادہ رہے کہ آئندہ ہمارے پروگرام میں سات ایسے مقامات ہیں جہاں پر ہمارا مرکز ہونا نہایت ضروری ہے۔پس جماعت کو تیار کرنے کے لیے میں یہ اعلان کر رہا ہوں۔تا کہ وقت پر اس کام کے لیے احباب پورا پورا حصہ لے سکیں۔میں نے وقف جائیداد کی تحریک کی تھی اور اس وقت تک اندازہ ہے کہ ایک کروڑ یا اس سے زیادہ کی جائیدادیں ہی وقف ہو چکی ہیں۔پس اگر اس تحریک میں کچھ کمی رہ جائے گی تو وقف کی تحریک سے پوری ہو سکتی ہے۔مثلاً اگر تین چار لاکھ روپیہ چندہ جمع ہو جائے تو باقی تین لاکھ رہ جاتا ہے جو اگر وقف جائیداد سے پورا کر لیا جائے تو واقفین کو صرف تین فیصدی اپنی جائیداد کا دینا پڑے گاجو کچھ زیادہ نہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے اعلان کیا ہوا ہے وقف جائیداد والی سکیم تو آخری سہارا ہے ہے۔جس طرح فوج اپنے لیے ایک آخری خندق بناتی ہے کہ اگر فلاں جگہ سے پیچھے ہٹنا پڑا اور فلاں جگہ سے بھی پیچھے ہٹنا پڑا تو اس آخری خندق کو استعمال کریں گے۔اسی طرح وقف جائیداد میں سے اِس کمی کو پورا کرنا بھی آخری خندق ہے جو اسی وقت استعمال ہو سکتی ہے جب کوئی اور صورت نہ ہو۔اس لیے پہلی کوشش یہی ہوگی کہ طوعی تحریک کے ذریعہ سے اس رقم کو پورا کیا جائے۔میں سمجھتا ہوں جس قسم کی بیداری ہماری جماعت کے قلوب میں پیدا ہو رہی ہے اُس کے سامنے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فرمایا تھا سَيَنْصُرُكَ رِجَالٌ تُوْحِيَ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ کہ تیری مدد ایسی جماعت کرے گی جس پر ہم آسمان سے وحی نازل کریں گے۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے اندر جو مالی قربانی کا مادہ پیدا ہو رہا ہے یہ اس الہی وحی کا نتیجہ ہے جو آسمان سے خدا تعالیٰ ان کے دلوں پر نازل کرتا ہے۔کوئی تحریک ہو وہ خدا کے فضل سے بہت کامیاب ہو جاتی ہے۔خصوصاً ان دو تین سالوں میں جماعت نے اس نصرت الہی کا بہت اچھا نمونہ دکھایا ہے۔اس سال تین لاکھ سے او پر تحریک جدید کا چندہ ہوا اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب کالج کا چندہ ہوا ہے اور دوسرے طوعی چندے ملا کر چھ سات لاکھ کے قریب بن جاتا ہے جن میں سے چار پانچ لاکھ وصول ہو چکا ہے۔