خطبات محمود (جلد 25) — Page 487
$1944 487 خطبات محمود جو خدا نے تمام لوگوں کی ہدایت کے لیے مکہ میں بنایا ہے۔یہ پہلا گھر ہے آخری نہیں۔اس کی نقل اور اتباع میں اور کئی گھر بنیں گے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے سے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں بھی یہ پیشگوئی نہایت وضاحت اور شان کے ساتھ پوری ہے ہوئی۔حتٰی کہ جس گاؤں میں صرف دس ہیں مسلمان رہتے ہوں وہاں بھی ایک چھوٹی سی کچی مسجد اس پیشگوئی کے سچا ہونے کی شہادت دے رہی ہوتی ہے۔پس إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ میں یہ زبر دست پیشگوئی تھی کہ یہ گھر بطور بیج اور گٹھلی کے ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان ایک جگہ محدود ہو کر رہ جائیں گے یا ہم اس تحریک کو تباہ کر دیں گے یا یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان اس جگہ سے باہر نہیں پھیلیں گے اور مٹ جائیں گے۔ان سب کو یہ اعلان کر کے بتا دیا کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے۔کیونکہ مکہ کا یہ گھر جسے خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے تمام بنی نوع انسان کی عبادت کے لیے مقرر فرما دیا ہے یہ پہلا تو ہے مگر آخری نہیں۔بلکہ اس کے نقش پر اور اس کی اتباع میں اور کئی گھر بنیں گے جن میں ہر اسود و احمر، مشرقی اور مغربی، کالے اور گورے، امیر اور غریب کے لوگوں کے لیے سکون اور راحت کا سامان ہو گا۔سب اکٹھے مل کر ان میں نماز پڑھیں گے اور ان میں کالے اور گورے، امیر اور غریب، مشرقی اور مغربی، کے درمیان کوئی امتیاز اور کوئی افتراق نہیں ہو گا۔بلکہ وہ جگہیں ھڈی لِلنَّاسِ ہوں گی۔ان میں تمام ہیں بنی نوع انسان کا حق مشترک طور پر قائم ہو گا۔میں نے دیکھا ہے کہ پہاڑوں میں بعض اتنی چھوٹی چھوٹی مساجد ہوتی ہیں کہ ان میں بمشکل تین چار آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔بس ایک چھوٹی سی محراب ہوتی ہے جو کسی چھوٹے سے کونے میں بنی ہوئی ہوتی ہے۔یہ تمام مسجدیں ان کی ایک ایک اینٹ اور ان کو لگی ہوئی مٹی کا ایک ایک ذرہ اس اعلان اِنَّ اَوَلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ کی تصدیق کر رہا ہوتا ہے کہ عبادت کا گھر مکہ میں پہلا ہے آخری نہیں۔یہ پھلے گا اور پھولے گا اور ساری دنیا میں اس کی نسل پھیل جائے گی۔پہاڑوں کی چوٹیاں، دریاؤں کے موڑ، جنگلوں کی چھوٹی چھوٹی بستیاں جہاں پر اس پہلے گھر کی اتباع میں مسجدیں بنائی گئی ہیں ان کی ایک ایک اینٹ اور ایک ایک ذرہ اس بات کی گواہی ہے