خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 486

$1944 486 خطبات محمود عبادت نہیں کرتے بلکہ جو آیا ماتھا ٹیکا اور چلا گیا مگر یہ اجتماعی عبادت کے لیے پہلا گھر ہے جو مکہ میں بنایا گیا ہے۔علاوہ ازیں اس آیت کے یہ بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ عبادتوں کے لیے تو اور بھی مکان تھے مگر جو مکان ساری دنیا کے لیے بنایا گیا تھا، جس میں ہر اسود و احمر، ہر جاہل و عالم، مشرقی و مغربی، سامی اور آرین تمام قوموں کی آمد مد نظر تھی وہ مکہ میں ہی تعمیر کیا گیا تھا۔اگر کوئی کہے کہ یہ جو کہا گیا ہے اولَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ کہ یہ پہلا مکان ہے جو لوگوں کے فائدہ کے لیے بنایا گیا ہے تو کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ اس کے بعد اور مکان بھی اسی غرض سے بنائے جائیں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان الفاظ میں بھی پیشگوئی کی گئی تھی کہ اس کے بعد اس غرض کو پورا کرنے کے لیے اور مکانات بھی بنے والے ہیں۔مگر ایسے سب مکانوں میں سے پہلا مکان یہ ہے۔ہو سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کو عالمگیر عبادت گاہ قرار دیتے اور آپ اس میں کامیاب نہ ہوتے۔مگر خدا تعالیٰ نے اِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وضِعَ لِلنَّاسِ بِبَكَةَ میں بتایا ہے کہ یہ مکان اپنی شان کے لحاظ سے پہلا تو ہے مگر آخری نہیں۔بلکہ اس کی نقل پر اور بھی عمارتیں بنیں گی جو اس کی قائم مقام ہوں گی اور جس طرح یہ مكان هُدًى لِلنَّاسِ ہے اسی طرح وہ بھی هُدًى لِلنَّاسِ ہوں گی۔خدا تعالیٰ کی فرمائی ہوئی یہ بات ایسی درست اور صادق ثابت ہوئی کہ دنیا بھر میں کعبہ کے نقش پر عمارتیں بن رہی ہیں۔کوئی بستی ایسی نہیں (سوائے اس کے کہ وہاں کے حالات روک ہوں ) جہاں مساجد کا سلسلہ نہ ہو۔بعض جگہ اتنی بڑی بڑی مسجدیں ہیں جو ظاہری وسعت کے لحاظ سے خانہ کعبہ کے برابر ہیں۔میں نے مصر میں مسلمانوں کے زمانہ کی بنی ہوئی مسجدیں دیکھی ہیں جن میں سے مسجد عمرو بہت بڑی مسجد ہے۔عمرو بن العاص نے اس کو بنایا تھا اس لیے اس کو مسجد عمر د کہتے ہیں۔اب تو وہ ویران ہے اور اس کے ارد گرد آبادی نہیں لیکن اس کو دیکھنے سے پتہ لگتا ہے کہ جب کبھی وہ آباد تھی ایک وقت میں ایک لاکھ آدمی اس میں کھڑا ہو کر نماز پڑھ سکتا تھا۔وہ اتنی وسیع مسجد ہے کہ اتنی وسیع مسجد ہندوستان میں کوئی نہیں۔پھر لاہور کی شاہی مسجد ہے جو غالباً ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد ہے۔پھر دہلی کی جامع مسجد ہے۔پھر کئی اور بھی ہیں۔پس یہ ساری کی ساری مساجد ان اولَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ کی پیشگوئی کو پورا کرنے والی ہیں کہ یہ گھر ہے