خطبات محمود (جلد 25) — Page 488
$1944 488 خطبات محمود دیتا ہے کہ یہ پیشگوئی بالکل کچی اور عظیم الشان طور پر پوری ہوئی۔اس پیشگوئی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا اہم سمجھا کہ اس کو پورا کرنے کے لیے کہ یہ گھر اؤل ہے آخری نہیں آپ کی ایک حدیث ہے۔اس مضمون کی اور بھی کئی میں حدیثیں ہیں مگر اس وقت جس کو بیان کرنے کا میر امنشاء ہے وہ حدیث احمد بن حنبل نے عبد اللہ بن عباس سے روایت کی ہے۔جو یہ ہے کہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ بَنِى بَيْتاً لِلَّهِ وَلَوْ كَمَفْحَصِ القَطَاةِ لِلْبِيْضِ فَبَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ 2 کہ جو شخص خدا کے لیے گھر بناتا ہے خواہ وہ اتنا چھوٹا ہو کہ بھٹ تیتر 3 کے انڈا دینے کے لیے زمین کھودنے کی جگہ کے برابر ہو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔شراح اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ بھٹ تیتر کے انڈا دینے کے لیے کھودی ہوئی جگہ کی مثال کو یہاں پر اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ وہ بہت چھوٹی سی ہوتی ہے۔پس اگر کوئی چھوٹی سی مسجد بھی بنائے گا تو اس کا بھی اُسے ثواب ملے گا۔گویا مبالغہ کے طور پر بھٹ تیتر کے انڈا دینے والی جگہ کو بیان کیا ہے کہ خواہ کوئی کتنی ہی چھوٹی مسجد بنائے خدا تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کا جنت میں گھر بنائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ الا مال بالنا : : : : کے مطابق ہر شخص کو اس کی نیت کے برابر بدلہ ملتا ہے۔اگر ایک جگہ پر پانی سات آدمی ہیں میں اور اُن کو اتنی ہی توفیق ہے کہ وہ دو چار گز کی مسجد بنا لیں تو خداتعالی ان کی نیت کے موافق ان کو میں بدلہ دے گا۔کیونکہ ان کی نیت بڑی مسجد بنانے کی تھی لیکن ان کے پاس مال نہیں تھا اور نہ اتنے نمازی تھے کہ وہ بڑا گھر بناتے۔پس اگر انہوں نے اپنے گاؤں کی ضرورت کے مطابق اور اپنی وسعت کے مطابق خدا کا گھر بنا دیا تو خدا تعالیٰ بھی اپنی وسعت کے مطابق ان کو جنت میں گھر دے گا۔کیونکہ بندے نے اپنی وسعت کے مطابق گھر بنانا ہے اور خدا نے اپنی وسعت کے مطابق۔اس لیے چاہے بندے نے دو انچ کی جگہ کے برابر خدا تعالیٰ کا گھر بنایا ہو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو وسیع محل دیا جائے گا۔بہر حال خدا وہی بنائے گا جو اس کی شان کے مطابق ہے۔دیکھو! بادشاہ اگر کسی کو خلعت دے گا تو وزیر کو وزیر کے درجہ کے مطابق دے گا، امیر کو امیر کے درجہ کے مطابق دے گا اور خادم کو خادم کے درجہ کے مطابق دے گا