خطبات محمود (جلد 25) — Page 395
$1944 395 خطبات محمود توجہ کریں۔میں نے مجلس مشاورت کے موقع پر غرباء کے لیے غلہ فراہم کرنے کی تحریک کی تھی۔جماعتوں کے نمائندے اُس موقع پر موجود تھے۔مگر معلوم نہیں کہ وہ سوئے ہوئے تھے کہ واپس جا کر انہوں نے اِس طرف کوئی توجہ نہیں کی۔قادیان کی جماعت نے بھی اور باہر کی جماعتوں نے بھی اس میں بہت کم حصہ لیا ہے۔میں نے خود پچھلے سال سو من غلہ اس تحریک میں دیا تھا۔مگر اِس سال دو سو من دیا ہے۔اسی طرح ملک عمر علی صاحب نے اس سال دوسو من غلہ دیا ہے۔مگر باقی دوستوں نے اِس طرف بہت کم توجہ کی ہے۔اور جنہوں نے اِس تحریک میں حصہ لیا بھی ہے اُنہوں نے دس دس یا پندرہ پندرہ سیر گندم اس تحریک میں دی ہے حالانکہ مومن کے ایمان میں ترقی کے ساتھ قربانی کا معیار بڑھنا بھی ضروری ہے۔یہی حال دوسرے چندوں کا ہے۔ان میں بھی بہت کو تا ہی ہو رہی ہے۔کالج کے متعلق چندہ کو اگر دیکھا تو جائے تو ایک درجن سے کم آدمی ایسے ہیں جن کا چندہ چالیس ہزار روپیہ ہے۔باقی جماعتوں نے اس میں بہت ہی کم حصہ لیا ہے۔ان چند آدمیوں کا چندہ اگر نکال کر باقی کو جماعتوں پر پھیلایا جاۓ تو معلوم ہو سکتا ہے کہ اس میں کس قدر کوتاہی کی گئی ہے۔پشاور کی ایک جماعت ہے جس نے جماعتی لحاظ سے معقول حصہ لیا ہے اور اڑھائی ہزار روپیہ دیا ہے۔باقی کسی جماعت نے ہم جماعتی لحاظ سے اپنا فرض ادا نہیں کیا۔ان میں سے بعض افراد نے اچھا حصہ لیا ہے۔اسے اگر الگ کر دیا جائے تو جماعتی چندہ بہت کم رہ جاتا ہے۔کلکتہ کے ایک دوست نے پانچ ہزار روپیہ دیا ہے ہے مگر وہ ایک فرد ہیں جماعت ان کے چندہ کو اپنے چندہ میں شمار کر کے یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہے اس نے اپنا فرض ادا کر دیا۔کلکتہ کی جماعت کا بحیثیت جماعت کالج کا چندہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ایسے افراد کے چندوں کو شمار کر کے جماعتوں کا یہ سمجھ لینا کہ انہوں نے کافی رقم دے دی ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت کسی شادی میں شامل ہوئی۔وہ بخیل تھی مگر اس کی بھاوج حوصلہ والی تھی۔اس عورت می نے ایک روپیہ کا تحفہ دیا مگر اس کی بھاوج نے نہیں روپے کا۔جب وہ واپس آئیں تو کسی نے اس کی بخیل عورت سے پوچھا کہ تم نے شادی کے موقع پر کیا خرچ کیا؟ اس نے کہا کہ میں نے اور بھاوج نے اکیس روپے دیے ہیں۔تو بعض افراد کے خاص چندوں کو جماعتوں کا اپنی طرف ہے