خطبات محمود (جلد 25) — Page 394
$1944 394 خطبات محمود آگے بڑھانا چاہتا ہے اور جو کہے گا کہ میں آگے نہیں بڑھوں گا بلکہ کھڑا ہی رہوں گا وہ کھڑا نہ رہ سکے گا بلکہ گرے گا۔نظام قدرت میں کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی بلکہ حرکت کرتی ہے۔پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ بعض ستارے ساکن ہیں مگر اب اس خیال کی تردید ہو چکی ہے اور ثابت ہے ہو گیا ہے کہ سب چل رہے ہیں۔دنیا میں کوئی چیز کھڑی نہیں حتی کہ ہمارے جسم کے ذرات بھی چکر کھاتے ہیں۔ہم جو روٹی کھاتے ہیں، جو چائے پیتے ہیں، جو چیز بھی استعمال کرتے ہیں میں ج سب میں ایک حرکت ہے۔اگر یہ حرکت نہ ہو تو وہ طاقت مٹ جائے جس سے وہ قائم ہیں۔ہم یہاں بیٹھے ہیں مگر جتنی دیر میں خطبہ ختم ہو گاز مین ایک لمبا فاصلہ طے کر جائے گی۔اگر چہ ہم اس حرکت کو محسوس نہیں کرتے مگر حرکت ہو ضرور رہی ہے۔جیسے ایک شخص لاہور سے گاڑی پر بیٹھتا ہے وہ خود بیٹھا ہی رہتا ہے مگر امر تسر پہنچ جاتا ہے۔کیونکہ اس کی حرکت می متوازی ہو جاتی ہے ریل کی حرکت کے۔یہی وجہ ہے کہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ حرکت کر رہا ہے۔دو گھوڑے اگر بالکل متوازی دوڑتے جائیں تو ان پر جو سوار ہوں گے وہ اگر چہ اوپر ہے بیٹھے ہوں گے اور ساکن نظر آئیں گے، وہ آپس میں باتیں بھی کر رہے ہوں گے گویا بیٹھے ہوئے ہیں مگر دراصل وہ حرکت کر رہے ہوں گے۔تو خدا تعالیٰ کے کاموں میں کوئی ساکن نہیں رہ سکتا۔اسی طرح کسی شخص کا ایمان بھی ایک جگہ پر ساکن نہیں رہ سکتا۔جس وقت وہ کھڑا ہو گا گرے گا۔اس وقت قربانیوں کا جو مطالبہ کیا جا رہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ جماعت پر بوجھ ڈالا جارہا ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی چاہتا ہے کہ ہم قربانی کے یہ متعلق اپنے معیار کو بلند کریں۔پہلے ہم نے اگر یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ دس فیصدی تک قربانی ہے کریں گے تو اب اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس معیار کو بڑھا کر بیس فیصدی کر دیں۔اگر پہلے ہمارا معیار بیس فیصد ی تھا تو اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اسے قبول کر لیا اور اب وہ چاہتا ہے کہ اسے بڑھا کر چالیس فیصدی کر دیں۔تو مومن سے جب بھی زیادہ قربانی کا ہے مطالبہ کیا جائے وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری پچھلی قربانی کو قبول کر لیا ہے اور اب وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے ایمان میں ترقی کریں۔پس میں جماعت کو ہوشیار کرتا ہوں کہ جو تحریکیں کی گئی ہیں ان کی طرف پوری مہینہ