خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 396

خطبات محمود 396 $1944 منسوب کرنا ایسا ہی ہے جیسا اس بخیل عورت کا یہ کہنا کہ میں نے اور بھاوج نے اکیس روپے دیے ہیں۔ان چندوں کو نکال کر اگر دیکھا جائے تو جماعتوں کی آنکھیں گھل جائیں کہ انہوں نے کتنی کو تاہی کی ہے۔مجلس مشاورت کے موقع پر میں نے توجہ دلائی تھی کہ غرباء کے لیے غلہ کی تحریک بہت اہم ہے۔میں نے بتایا تھا کہ سرگودھا، لائلپور ، منٹگمری اور ملتان کے اضلاع سے اگر زمین کے لحاظ سے بھی چندہ لیا جائے تو کافی غلہ جمع ہو سکتا ہے۔جس شخص کی ایک مربع زمین ہو وہ بڑی آسانی سے من ڈیڑھ من غلہ اس تحریک میں دے سکتا ہے۔جس کی زمین ایک مربع ہو وہ چھ سات کیلے گندم ضرور کاشت کرتا ہے اور اگر اوسط پیداوار فی کیلہ نہیں من ہے بھی سمجھ لی جائے تو گویا اس کی گل گندم 120 یا 140 من ہو گی اور اتنی گندم میں سے من ڈیڑھ من اس تحریک میں دے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔ایک یا ڈیڑھ فیصدی پیداوار کا غرباء کے لیے دے دینا بالکل معمولی بات ہے۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب درختوں پر پھل آئیں یا کوئی فصل ہو تو غرباء کو فراموش نہ کرو اور ان کا حصہ ادا کرو۔مگر معلوم ہوتا ہے مجلس مشاورت میں جو نمائندے آئے تھے وہ سوئے ہوئے تھے جب میں نے یہ تحریک کی تھی۔انہوں نے واپس جاکر اس طرف کوئی توجہ نہیں کی اور نہ کوئی کام کیا اور نہ رپورٹ بھیجی اور نہ کوئی چندہ بھجوایا۔حالانکہ ان اضلاع میں احمدیوں کی ملکیت قریباً ایک ہزار مربع اراضی ہو گی اور اگر فی مربع من ڈیڑھ من بھی چندہ وصول ہو تا تو بارہ تیرہ عو من ہو جانا چاہیے تھا۔اگر ہے ایک من ہی فی مربع دیا جاتا اور نادہندوں کو بھی چھوڑ دیا جائے تو کم سے کم سات آٹھ سو من خلہ پھر بھی ہو جانا چاہیے تھا۔مگر صرف اس وجہ سے کہ میں نے دوبارہ اعلان نہیں کیا اس کے طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔حالانکہ جب ایک دفعہ توجہ دلا دی جائے تو مومن کا فرض ہے کہ خود خیال رکھے۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کالج کے متعلق چندہ کا بھی یہی حال ہے اور جماعتی چندوں کی مقدار بہت کم ہے۔ہاں پشاور اور حیدر آباد کی جماعتیں مستقلی ہیں اُن کا چندہ جماعتی لحاظ سے ایک خاص مقدار میں آیا ہے۔باقی قادیان کی بھی اور باہر کی جماعتوں نے بھی بہت کو تاہی کی ہے اور جماعتی لحاظ سے بہت کم توجہ کی ہے۔اگر کئی سو افراد کی جماعت سے