خطبات محمود (جلد 25) — Page 35
خطبات محمود 35 $1944 حاصل تھا اِلَّا مَا شَاءَ الله - جس نے اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھ لیے اور اس سے تعلق پیدا کر کے مقام قرب حاصل کر لیاوہ اس سے مستثنی ہیں۔حضرت عمرو بن العاص کے متعلق ہی آتا ہے جب آپ وفات پانے لگے تو رونے لگ گئے۔ان کے بیٹے نے جو بہت بڑے مخلص اور بڑی شان رکھنے والے تھے اور باپ سے پہلے ایمان لائے تھے ، ان سے پوچھا کہ آپ روتے کیوں ہیں؟ آپ کو تو خدا تعالیٰ نے اسلام کی خدمت کی بڑی بھاری توفیق عطا می فرمائی ہے اور اب ان سب جذبات کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اجر ملنے والا ہے۔انہوں نے جواب دیا تم کو کیا معلوم ہے۔ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زندہ خدا نظر آیا کرتا تھا مگر بعد میں ہم دنیا کے جھمیلوں میں ایسے گرفتار ہوئے اور ایسے ایسے جھگڑے آ پڑے کہ ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا بڑا مشکل ہو گیا کہ سچائی کیا ہے۔اس لیے نہ معلوم ہم اس می دوران میں کیا کیا گناہ اور کیا کیا غلطیاں کر چکے ہیں اور میں ڈرتا ہوں کہ مرنے کے بعد میں خدا کو کیا جواب دوں گا۔3 تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نبیوں کے زمانہ میں انسان کو جو ایمان حاصل ہوتا ہے وہ بعد میں ویسا نہیں رہتا۔سوائے اُن لوگوں کے جن کا خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور وہ اس کے کلام اور الہام سے فیضیاب ہوتے ہیں۔عام لوگ جن کا ایمان ایک دوسرے کو دیکھ کر ہوتا ہے نبی کا زمانہ گزرنے کے بعد اُن کا ایمان اُس رنگ میں نہیں رہتا جس رنگ میں پہلے ہوا کرتا ہے۔گو اس میں شبہ نہیں کہ نبی کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ کر بلکہ بعض دفعہ دوبارہ اور بعض دفعہ سہ بارہ ان کو پورا ہوتے دیکھ کر ایک اور رنگ کی پختگی ان کے ایمان میں ہے ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔مگر وہ زندہ خدا جو نبی کے زمانہ میں انہیں اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، باتیں بیچے کرتے اور خاموش رہتے نظر آیا کرتا تھا بعد میں نظر نہیں آتا۔سوائے ان لوگوں کے جن کا ہے خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق ہوتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کے قرب کی وجہ سے اس کی محبت اور تائید کے نمونے اپنی ذات میں بھی اُسی طرح مشاہدہ کرتے ہیں جس طرح انبیاء کے زمانہ میں وہ ان نشانات کا مشاہدہ کیا کرتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی بڑی بڑی ہے