خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 34

خطبات محج محمود 34 $1944 ایک مقرب صحابی بلکہ بعد میں ہونے والے خلیفہ کی یہ حالت تھی کہ جب حضرت السلام کو اُس نے تکلیف کی حالت میں دیکھا اور اسے معلوم ہوا کہ سپاہیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو گرفتار کر لیا ہے تو بعض لوگوں نے اُسے دیکھ کر کہا کہ یہ بھی مسیح کے ساتھیوں میں سے ہے۔اس پر اُس نے کہا میں اس کے ساتھیوں میں سے نہیں، میں تو اُس پر خدا کی لعنت ڈالتا ہوں۔2 مگر پھر یہی شخص اس واقعہ کے چالیس یا پچاس سال کے بعد روم میں گیا اور اسے مسیح کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے پھانسی دے دیا گیا اور وہ خوشی سے ہنستا ہو ا صلیب پر چڑھ گیا۔حالانکہ حضرت عیسی کے زمانہ میں یقیناً اس کا ایمان اُس سے بہت زیادہ تھا جتنا ایمان بعد میں اس کے دل میں تھا۔اُس وقت زندہ خدا کے نشانات ہر وقت آنکھوں کے سامنے پورے ہوتے نظر آتے تھے جو بعد میں عیسوی امت کی نظر سے اور تھل ہو گئے۔پس جس قسم کا ایمان پطرس کو مسیح کی زندگی میں حاصل تھا یقیناً بعد میں ویسا ایمان اس کے دل میں نہ تھا۔مگر اُس وقت اُس نے کیوں قربانی نہ کی اور بعد میں کیوں قربانی کی؟ اسی لیے کہ اُس وقت تک حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کی قدر و قیمت اور اس کی اہمیت کا صحیح اندازہ اس کے دل نے نہیں لگایا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ چیز کتنی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔مگر میں بعد میں جب وہ صلیب پر چڑھ گیا تو گو اُس وقت اُس کا ایمان ویسا نہیں ہو گا جیسا حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں تھا مگر یہ پختگی ضرور پیدا ہو چکی تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے مے بغیر یہودی قوم اور وہ قبائل جن کی ہدایت کے لیے آپ مبعوث ہوئے دنیا میں کوئی پائیدار کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتے۔اور یہ کہ دنیا میں تغیر پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسیح کی اہمیت کو سمجھا جائے اور اس کی اہمیت لوگوں کے دلوں میں قائم کی جائے۔چنانچہ وہ اسی اہمیت کی وجہ سے جو اس کے دل پر نقش ہو چکی تھی خوشی سے صلیب پر چڑھ گیا اور اس می نے اپنی جان کی پروا نہ کی۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بھی اس بات کو خوب سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جو ایمان انہیں نصیب تھا وہ بعد میں اس شکل میں نہیں رہا جس شکل میں وہ ایمان آپ کے زمانہ میں انہیں میں