خطبات محمود (جلد 25) — Page 36
خطبات محمود 36۔$1944 قربانیاں کرنے والے لوگ موجود تھے۔ایسے ایسے لوگ پائے جاتے تھے جن کی مثال آج جماعت میں بہت کم نظر آتی ہے۔ایسے بیسیوں آدمی تھے جو اپنے گزارے اتنی تنگی سے رکھتے تھے کہ ان کو دیکھ کر کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ لوگ خوشحال ہیں۔وہ ہمیشہ اپنے مال کا ایک بہت بڑا حصہ دین کی اشاعت کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھجوا دیا کرتے تھے۔مگر پھر ہم نے انہیں کو دیکھا کہ بعد میں ان کے دلوں میں یہ حسرت پیدا ہوتی گئی کہ کاش! ہم اس سے بھی زیادہ خدمت کرتے۔حالانکہ ان کی خدمت یقیناً موجودہ لوگوں سے بہت زیادہ تھی۔مجھے اس کی ایک مثال یاد ہے۔چودھری رستم علی صاحب غالباً پہلے سب انسپکٹر تھے پھر خدا تعالیٰ نے ان کو انسپکٹر بنا دیا۔سب انسپکٹری کی تنخواہ میں سے وہ ایک معقول رقم ماہوار چندو کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھجوایا کرتے تھے۔اس وقت غالباً ان کی اپنی روپے تنخواہ تھی۔پھر خداتعالی نے ان کو انسپکٹر بنادیا اور ان کی ایک سو اسی روپے تنخواہ ہو گئی۔جب ان کا خط آیا، اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیمار تھے۔میں نے خود اُن کا خط پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنایا۔انہوں نے خط میں لکھا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے عہدہ میں ترقی دے کر تنخواہ میں ایک سو روپیہ زیادتی عطا فرمائی ہے۔مجھے اپنے گزارہ کے لیے زیادہ روپوں کی ضرورت نہیں۔میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے میری تنخواہ میں یہ اضافہ محض دین کی خدمت کے لیے کیا ہے اس لیے میں آئندہ علاوہ اُس چندہ کے جو میں پہلے ماہوار بھیجا کرتا ہوں یہ سو روپیہ بھی جو مجھے ترقی کے طور پر ملا ہے ماہوار بھیجتار ہوں گا۔دیکھو! اس قسم کے نمونے آجکل کتنے نادر ہیں۔مگر اُس وقت کثرت سے جماعت میں اس قسم کے نمونے پائے جاتے تھے۔لیکن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ان کو دیکھا کہ ان کے دل اِس بات پر خوش نہیں تھے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ کافی تھا بلکہ بعد میں جب انہوں نے محسوس کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود اُس سے بہت زیادہ اہم تھا جتنا انہوں نے سمجھا اور اُس سے بہت زیادہ آپ کے وجود پر دنیا کی ترقی کا انحصار تھا جس قدر انہوں نے پہلے خیال کیا تو ان کے دل روتے تھے کہ کاش! یہ