خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 33

$1944 33 خطبات محمود رہے تھے کہ ان کی آزمائش کا وقت آگیا اور چونکہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ موسی کی اہمیت کتنا درجہ رکھتی ہے وہ اس امتحان میں فیل ہو گئے اور انہوں نے کہہ دیا کہ جاؤ! تم اور تمہارا رب دشمن سے لڑتے پھر وہم تو نہیں جاسکتے۔پھر ان پر ایک ایسازمانہ آیا کہ انہوں نے اپنے دلوں میں موسی کی اہمیت کا فیصلہ کر لیا اور انہوں نے کہا موسی کی اہمیت قومی زندگی سے بھی زیادہ ہے۔بلکہ ہماری قومی زندگی اُس وقت تک ناممکن ہے جب تک موسٹی کی اہمیت کو ہماری قوم کا ہر فرد اچھی طرح نہ سمجھ لے۔مگر جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا اس وقت حضرت موسٰی علیہ السلام گزر چکے تھے ، حضرت موسی علیہ السلام کے خلفاء گزر چکے تھے بلکہ حضرت موسی علیہ السلام پر ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والے اور ان کو دیکھنے والے اتباع بھی گزر چکے تھے۔اُس وقت وہ ایمان اور وہ اخلاص جو حضرت موسی علیہ السلام کے ذریعہ قوم میں پیدا ہوا تھا پھیکا پڑ چکا تھا، اللہ تعالیٰ سے قوم کا تعلق کمزور ہو چکا تھا، اتصال ٹوٹ چکا تھا، محبت اور اطاعت کا جوش سرد ہو چکا تھا۔اب خالی موسٰی کی اہمیت ان کو قرب الہی نصیب نہیں کراسکتی تھی۔پس جب تک موٹی کی اہمیت کے پر کھنے کا وقت تھا، جب تک موسیٰ سے فائدہ اٹھانے کا وقت تھا انہوں نے حضرت موسی کی اہمیت کو نہ پر کھا، انہوں نے موسیٰ سے فائدہ نہ اٹھایا۔اور جب انہوں نے موسی کی اہمیت کو سمجھا تو فائدہ اٹھانے کا زمانہ گزر چکا تھا۔پھر وہ ایک عام قوم کی طرح ہو گئے جو صرف زور اور طاقت کے ساتھ بڑھتی ہے ایمان کے ساتھ اس کے بڑھنے کا تعلق نہیں ہو تا۔یہی حال ہمیں باقی دنیا میں نظر آتا ہے۔جانے والے جانتے ہیں کہ عیسائی پادریوں نے نے مسیحیت کی اشاعت کے لیے کس قسم کی قربانیاں کی ہیں۔بعض جگہ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ پادری آدم خور علاقوں میں تبلیغ کے لیے گئے اور حبشی انہیں بھون بھان کر کھا گئے مگر جب مرکز میں تار پہنچا کہ فلاں علاقہ میں ہمارے پادریوں پر ایسا حادثہ گزرا ہے تو ہزاروں ہے عیسائیوں نے اُسی دن اپنے آپ کو اس غرض کے لیے وقف کر دیا کہ ہم وہاں تبلیغ کی خاطر جانے کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے اس بات کی ذرا بھی پروا نہ کی کہ اس علاقہ میں مردم خور لوگ رہتے ہیں وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔مگر ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب صحیح کے ہیں