خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 26

خطبات محمود 26 $1944 ہوتا ہے۔پس اس لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں سب سے بڑی قربانی اپنے نفس کا جہاد ہو گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں سب سے بڑا کام دشمن سے جہاد کرنا تھا مگر اس زمانہ میں سب سے بڑا کام نحر کرنا ہو گا۔اور نحر اُس جانور کی قربانی کو کہتے ہیں جو انسان کے اپنے قبضہ میں ہوتا ہے۔پس اس لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد نہیں ہو گا یعنی دشمن کو تلوار سے مارنا ان کا کام نہیں ہو گا۔بلکہ ان کا سب سے بڑا کام اپنے نفس کو مارنا اور اس سے جہاد کرنا ہو گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بڑی بھاری قربانی یہ تھی کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال کر دشمن کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے جائے مگر فرمایا مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد نہیں ہو گا بلکہ نحر ہو گا یعنی اُس زمانہ میں سے بڑی جنگ انسان کو اپنے نفس سے کرنی پڑے گی۔صحابہ کے زمانہ میں بڑی قربانی یہ تھی کہ عتبہ اور شیبہ اور ابو جہل کو قتل کرنے کی کوشش کی جائے خواہ اس کوشش اور جدوجہد میں انسان خود ہی کیوں نہ مارا جائے۔لیکن مسیح موعود کے زمانہ میں دشمن کو مارنے کا کام نہیں ہو گا۔بلکہ بڑی قربانی یہ ہو گی کہ ہر انسان براہ راست اپنے نفس کو مارنے اور اسے ہلاک کرنے کی کوشش کرے۔یہ ایک ایسا واضح پروگرام ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور پروگرام کی ہے طرف جانا قطعاً دانائی نہیں ہو سکتی۔خدا سے بہتر کون پروگرام بنا سکتا ہے۔یقیناً خدا سے بڑھ کر اور کوئی صحیح پروگرام نہیں بنا سکتا اور خدا نے جماعت احمدیہ کا یہ پروگرام بتا دیا ہے کہ وہ عباد تیں کرے اور قربانیوں میں ترقی کرے۔عبادتوں میں سے سب سے اہم عبادت نماز باجماعت ہے۔اس کے بعد ذکر الہی، ہے۔اس نوافل پڑھنا، درود پڑھنا، تسبیح، تحمید اور تکبیر کرنا۔یہ سب چیزیں عبادت میں شامل ہیں مگر میں دیکھتا ہوں ابھی تک ہماری جماعت میں اس طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔وہ مسجدوں میں آتے ہیں تو بجائے ذکر الہی کرنے کے فضول اور لغو باتوں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔حالانکہ صحابہ کا طریق یہ تھا کہ جب وہ اکٹھے ہوتے تو کہتے آؤ ہم اپنے ایمان تازہ کریں اور پھر وہ ایک دوسرے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں اور آپ کے حالات سنتے۔آخر ہر شخص مجلس میں موجود نہیں ہوتا۔کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک شخص تو سنتا ہے مگر دوسرا