خطبات محمود (جلد 25) — Page 27
خطبات محمود 27 $1944 نہیں سنتا۔ایسی صورت میں صحابہ کا یہی طریق تھا کہ وہ بیٹھ کر ایک دوسرے کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باتیں سنایا کرتے تھے۔مگر اِس زمانہ میں لغو اور فضول باتوں میں بہت زیادہ وقت ضائع کیا جاتا ہے۔حالانکہ ہمارے لیے حکم یہی ہے کہ فَصَلِ لِر پک تم اپنے اوقات اِس طرح صرف کرو کہ وہ سب کے سب تمہاری عبادت کی گھڑیاں بن جائیں۔پھر فرماتا ہے وَانْحَرْ۔تمہارا دوسرا کام یہ ہے کہ تم قربانیوں میں حصہ لو۔۔جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے آہستہ آہستہ ہماری جماعت ایک نہایت اعلیٰ مقام پر پہنچتی جا رہی ہے۔مگر صرف مالی قربانی ہی قربانی نہیں بلکہ اور بھی کئی میں قسم کی قربانیاں کرنا جماعت کا فرض ہے۔مثلا وقت کی قربانی ہے یہ بھی ایک اہم قربانی ہے۔جذبات کی قربانی ہے یہ بھی ایک اہم قربانی ہے، مگر ان قربانیوں میں ابھی بہت بڑی ترقی کی امینی ضرورت ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ذرا ذرا سی بات پر لوگ ایک دوسرے سے لڑنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ اپنے جذبات کی قربانی سے کام لیں تو اس قسم کے جھگڑوں کی نوبت ہی نہ آئے۔اسی طرح وقت کی قربانی میں تبلیغ بھی شامل ہے مگر اس طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر ہماری جماعت تبلیغ کا فرض پورے طور پر ادا کرتی تو اب تک موجود ہے جماعت سے بیسیوں گنا زیادہ جماعت ہو جاتی۔مگر یہ قربانی پیش کرنے کے لیے ہماری جماعت کے بہت کم دوست تیار ہوتے ہیں۔ہر شخص جو یہاں بیٹھا ہے وہ اپنے اپنے نفس میں سوچے اور ہے غور کرے کہ اس نے پچھلے مہینے میں تبلیغ کے لیے کتنا وقت دیا ہے۔اگر آپ لوگ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کئی لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے سارے مہینے میں شاید ایک جی تبلیغ کے لیے دیا ہو گا۔کئی ایسے ہوں گے جنہوں نے سارے مہینے میں شاید کسی کو دس منٹ تبلیغ کی ہو گی اور کئی ایسے ہوں گے جنہوں نے تبلیغ کی ہی نہیں ہو گی یا تبلیغ تو کی ہو گی مگر ی وہ حقیقی تبلیغ نہیں ہو گی۔جب اس قسم کی عروفی طبائع پر چھائی ہوئی ہو تو محض مالی قربانی سے میں جماعت کی ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔مالی قربانی کے ساتھ اگر اوقات کی قربانی نہیں ، اگر تبلیغ کے لیے دلوں میں ایک دیوانگی اور جوش نہیں تو یہ جماعت کی ترقی کی کوئی خوشکن علامت میں نہیں۔بلکہ میرے نزدیک اگر روپیہ دینے والا تبلیغ نہیں کرتا اور وہ روپیہ دے کر ہی سمجھ ؟