خطبات محمود (جلد 25) — Page 25
$1944 25 محمود عظیم الشان انسان نے نہیں آنا تھا ان کو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم اس شکریہ میں میری عبادت کرو اور قربانیوں میں پہلے سے بھی زیادہ جوش سے حصہ لو تو وہ لوگ جن کے زمانہ میں اس انسان نے آنا تھا ان پر یہ کیوں فرض نہیں ہو گا کہ وہ اس شکریہ میں اللہ تعالی کی زیادہ ہے عبادتیں کریں اور اس کے دین کی اشاعت کے لیے زیادہ سے زیادہ قربانیاں کریں۔آخر فائدہ تو انہوں نے ہی اٹھانا تھا جن کے زمانہ میں اس انسان نے مبعوث ہونا تھا اور اس لحاظ سے اس نعمت کا زیادہ شکریہ ادا کرنا انہی کا فرض ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فائدہ نہیں پہنچا جس رنگ میں لوگوں کو آپ کی بعثت کا من فائدہ ہوا ہے۔اور اگر دین کی اشاعت کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فائدہ ہوا ہے تو پھر بھی استاد استاد ہی ہے اور شاگرد شاگر د ہی ہے۔مگر جب ایک اچھے شاگرد کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ عبادتیں کریں اور قربانیوں میں حصہ لیں تاکہ اس فضل کا شکریہ ادا ہو سکے تو وہ لوگ جو اس مسیح موعود کے شاگرد ہیں ان پر یہ کس قدر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ عبادتوں اور قربانیوں میں پہلے سے بہت زیادہ حصہ لیں۔جس شاگرد کے متعلق استاد کو یہ کہا گیا ہے کہ تم نمازیں پڑھو اور قربانیاں کرو، اس کے اپنے منی شاگردوں کو تو یقیناً لاکھوں گنا زیادہ عبادتیں کرنی چاہیں اور لاکھوں گنازیادہ قربانیوں میں۔لینا چاہیے۔پس مسیح موعود کی بعثت کے بعد اس حکم کی تعمیل سب سے زیادہ جماعت احمد یہ پر فرض ہے۔فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ۔اللہ تعالیٰ کی مرضی کی خاطر عبادتیں بجالا ؤ اور تم اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربانیاں کرو۔اس شکریہ میں کہ اس نے تمہیں کوثر سے حصہ عطا فرمایا۔گو یا اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے احمدی جماعت کو یہ بتایا ہے کہ مسیح موعود کی بعثت کے وقت ان کو کیا کام کرنا چاہیے۔اللہ تعالی فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ۔احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کریں اور اس کے دین کے لیے قربانیوں پر قربانیاں کرتے چلے جائیں۔یہی ہمارا پروگرام ہے جو اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے۔عربی زبان میں نحر اُس جانور کی قربانی کو کہتے ہیں جو ہمارے اپنے قبضہ میں