خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 202

$1944 202 خطبات محمود کی بات پر ایمان لائے۔خدا تعالیٰ کے دین کے لیے جائیدادیں وقف کرنے کی تحریک: اب میں ایک آخری اور ضروری بات کہہ کر اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔وہ بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اب اسلام کی فتح کی ایک نئی بنیاد رکھ دی ہے تو یقیناً اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لیے ہم سے نئی قربانیوں کا مطالبہ کرنے والا ہے۔میں نہیں جانتا کہ یہ آواز میرے منہ سے نکلے گی یا کسی اور شخص کے منہ سے نکلے گی۔میں یہ بھی نہیں جانتا کہ یہ آواز کس رنگ میں نکلے گی لیکن بہر حال یہ آواز بلند ہونے والی ہے۔ہماری جماعت بے شک چندے دیتی ہے اور بہت دیتی ہے، قربانیاں کرتی ہے اور بہت کرتی ہے۔مگر یہ قربانیاں اسلام کی اشاعت کے لیے کافی نہیں۔پس میں تجویز کرتا ہوں اور اس تجویز کے مطابق سب سے پہلے میں اپنے وجود کو پیش کرتا ہوں کہ ہم میں سے کچھ لوگ جن کو خدا تعالی ہے توفیق دے اپنی جائیدادوں کو اس صورت میں دین کے لیے وقف کر دیں کہ جب سلسلہ کی طرف سے اُن سے مطالبہ کیا جائے گا انہیں وہ جائیداد اسلام کی اشاعت کے لیے پیش کرنے میں قطعاً کوئی عذر نہیں ہو گا۔میں سب سے پہلے اس غرض کے لیے اپنی جائیداد وقف کرتا ہوں۔دوسرے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ہیں۔انہوں نے بھی اپنی جائیداد میری اس تحریک پر دین کی خدمت کے لیے وقف کر دی ہے بلکہ انہوں نے مجھے کہا آپ جانتے ہیں، آپ کی پہلے بھی یہی خواہش تھی اور ایک دفعہ آپ نے اپنی اس خواہش کا مجھ سے اظہار بھی کیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ میری جائیداد اس غرض کے لیے لے لی جائے۔اب دوبارہ میں اس مقصد کے لیے اپنی جائیداد پیش کرتا ہوں۔تیسرے نمبر پر میرے بھانجے مسعود احمد خان صاحب ہیں۔انہوں نے کل سنا کہ میری یہ خواہش ہے تو فوراً مجھے لکھا کہ میری جس قدر جائیداد ہے اُسے میں بھی اسلام کی اشاعت کے لیے وقف کرتا ہوں۔اس وقف کی صورت یہ ہوگی کہ ایک کمیٹی بنا دی جائے گی اور جب وہ فیصلہ کرے گی کہ اس وقت اسلام کی ضرورت ہے کے لیے وقف کرنے والوں کی جائیدادوں سے اِس اِس قدر رقم لے لی جائے اُس وقت پہلے عام چندے کی تحریک کی جائے گی۔اس کے بعد چندہ میں جو کمی رہ جائے گی اس کمی کو یہ کمیٹی میں