خطبات محمود (جلد 25) — Page 201
$1944 201 خطبات محمود کو خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیٹا قرار دیا ہے اور بیٹا اسی وجہ سے قرار دیا ہے تا آپ کے خاندان کو معلوم ہو کہ وہ خویشوں میں سے ہیں اور اُن سے زیادہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دین کی خدمت کریں گے۔پس تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خویشوں میں ہے سے ہو۔تمہیں اوروں سے زیادہ دین کی خدمت کرنی چاہیے۔مجھے تو اس بات کی کبھی سمجھ ہی نہیں آسکتی کہ اگر خدا نے دین کی خدمت کا کام کرتے ہوئے دنیوی لحاظ سے مجھے اپنے فضلوں کے سے حصہ دیا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میری اولا دیا اولاد در اولاد دین کی خدمت کا کام کرے اور وہ فاقہ سے مرتی رہے۔اگر وہ مومنانہ رنگ اختیار کریں تو تھوڑے روپیہ میں بھی ہے آسانی سے گزارہ کر سکتے ہیں اور اگر حرص بڑھا لیں تو پھر پانچ یا دس ہزار روپیہ کمانے کی کیا شرط ہے۔انسان کہتا ہے مجھے میں ہزار روپیہ ملے جب میں ہزار روپیہ اکٹھا کر لیتا ہے تو کہتا ہے میں میرے پاس پچاس ہزار روپیہ ہو جائے۔جب پچاس ہزار روپیہ ہو جاتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہو جائے۔پس اگر اس حرص کو بڑھاتے چلے جائیں تو پھر بڑھتی چلی ہے جاتی ہے اور اس کا کہیں خاتمہ نہیں ہوتا۔دنیا میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جن کی ماہوار آمد پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ لاکھ روپیہ ہے مگر پھر بھی وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے پاس اور روپیہ آجائے۔پس اللہ تعالیٰ پر توکل کرو، دنیوی کاموں کو چھوڑ دو اور دین کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کر دو۔اسلام اس وقت قربانی کا محتاج ہے اور سب سے پہلا حق اس قربانی کو ادا کرنے کا ہم پر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ اول المومنین تھے۔24 اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ آپ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے احکام کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھتے تھے اور دوسروں کو کہنے سے پہلے خود اس پر عمل کر کے دکھا دیتے تھے۔مجھ پر بھی جب یہ تازہ انکشاف ہوا اور اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو ایک دو منٹ تو اس رویا پر ہی میں غور کر تا رہا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے معا مجھے سمجھ دی کہ اتناوقت میں نے ناحق ضائع کر دیا اور میں نے فوراً اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا یا رَبِّ أَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ۔جب خدا کسی کے سپرد کوئی کام کرتا ہے تو اس پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔یہ خوشی کا ہے مقام نہیں بلکہ گھبراہٹ کا مقام ہوتا ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالی ہے