خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 203

$1944 203 خطبات محمود ان لوگوں پر نسبتی طور پر تقسیم کر دے گی جنہوں نے اپنی جائیدادیں وقف کی ہوں گی۔اور ان کا اختیار ہو گا کہ وہ چاہیں تو نقد روپیہ دے دیں اور چاہیں تو اپنی جائیداد فروخت کر کے یا گرو رکھ کر اتنا روپیہ دے دیں۔گویا اسلام کی اشاعت کے لیے آئندہ یہ نہیں ہو گا کہ کہا جائے ہمارے پاس اتنا روپیہ نہیں۔جماعت میں پہلے ایک عام تحریک کی جائے گی اور اس کے بعد جو کمی رہ جائے گی اُس بار کو ہم لوگ اپنے اوپر لے لیں گے جنہوں نے دین کے لیے اپنی جائیدادوں کو وقف کر دیا ہو گا۔اور جو کمیٹی مقرر ہوگی وہ جائیدادوں کے مطابق ہر ایک کا حصہ اسے بتا دے گی۔مثلاً فرض کرو ایک شخص کی جائیداد ایک لاکھ روپے کی ہے اور می دوسرے کی دس ہزار روپیہ کی۔تو لاکھ روپے کی جائید اور کھنے والے کے ذمے مثلاً کمیٹی دس حصے مقرر کر دے گی اور دس ہزار روپیہ والے کے ذمہ ایک حصہ۔اور ان کا اختیار ہو گا کہ وہ یہ چاہیں تو نقد روپیہ ادا کر دیں اور چاہیں تو اپنی جائیداد کو فروخت کر کے یا گرور کھ کر ادا کر دیں۔بہر حال اس معاہدہ کے بعد اُن کا کوئی حق نہیں ہو گا کہ وہ کہہ سکیں کہ ہم اپنی جائیداد کا اتنا حصہ دے سکتے ہیں اتنا نہیں دے سکتے۔یہ کمیٹی کا اختیار ہو گا کہ اُن سے جس قدر ضرورت سمجھے مطالبہ کرے۔اُن کا حق نہیں ہو گا کہ وہ انکار کریں۔اس اقرار کے بعد اگر کوئی شخص اس می جائیداد کو فروخت کرنا چاہے تو چونکہ اس سے پہلے وہ اپنی جائیداد سلسلہ کو دے چکا ہو گا اس لیے اس کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ جائیداد فروخت کرتے وقت کمیٹی کو اطلاع دے کہ اِس اِس رنگ میں میں اپنی جائیداد کو بدلنے لگا ہوں تاکہ کمیٹی کو تمام جائیدادوں کے متعلق صحیح علم حاصل ہوتار ہے۔اور چونکہ کچھ لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ ان کے پاس میں جائیدادیں نہیں ہو تیں لیکن اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی کسی طرح ثواب میں شامل ہوں اس لیے وہ اگر چاہیں تو اس رنگ میں اپنا نام پیش کر سکتے ہیں کہ علاوہ دوسرے چندوں کو ادا ہے کرنے کے جب کبھی اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لیے خاص قربانیوں کا مطالبہ ہوا میں اپنی ایک مہینہ کی یا دو مہینہ کی یا تین مہینہ کی آمد دے دوں گا۔اور مجھے اور میرے بیوی بچوں کو خواہ کیسی ہی تنگی سے گزارہ کرنا پڑے میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا۔اس معاہدہ کے مطابق جب قربانیوں کا وقت آیا تو ان لوگوں سے اُن کے وعدے کے مطابق ایک یا دو یا تین ا