خطبات محمود (جلد 24) — Page 93
* 1943 93 خطبات محمود جانور ہے۔انسان کی عادت ہے کہ وہ غصے میں آکر جانوروں سے باتیں کرنی شروع کر دیتا ہے۔تم نے کئی دفعہ دیکھا ہو گا کہ کسان چلتے ہوئے بیلوں سے بھی باتیں کرتا جاتا ہے اور اسے کہتا جاتا ہے کہ تجھے کیا ہو گیا ہے حالانکہ وہ بیل سنتا نہیں ، سمجھتا نہیں۔اسی طرح غصے میں آکر انہوں نے کتے سے کہا کہ “ بے حیا کہیں کا دو روٹیاں ڈال دیں اب بھی جانے کا نام نہیں لیتا۔” اُدھر انہوں نے یہ کہا اور معا اللہ تعالیٰ نے ان پر کشف کی حالت طاری کی اور وہ کتا بولا (کشف میں جانور بھی بولا کرتے ہیں اور دیوار میں بھی بولا کرتی ہیں) کہ بے حیا تم ہو یا میں ہوں؟ مجھے اس امیر کے دروازے پر سات سات وقت کا فاقہ آیا ہے مگر اس کے باوجود میں اس دروازے سے کہیں نہیں گیا لیکن خدا تم کو اتنی مدت سے وہیں بیٹھے کھانا پہنچا تارہا اور تم تین فاقوں سے گھبرا کر مانگنے آگئے ہو۔اب خود ہی سوچو کہ بے حیا تم ہو کہ میں ہوں۔کتے نے یہ کہا اور ادھر ان کی کشفی حالت جاتی رہی۔تب انہیں سمجھ آگئی اور انہوں نے آخری روٹی اور سالن بھی وہیں پھینکا اور اپنے مقام پر واپس آگئے۔اللہ تعالیٰ نے تو امتحان لینا تھا اور ان پر ظاہر کرنا تھا کہ تمہارا ایمان ابھی مضبوط نہیں ہوا۔گھر پہنچے تو دیکھا کہ پانچ چھ آدمی کھانا لئے کھڑے ہیں۔ایک معذرت کر رہا تھا کہ حضور غلطی ہوئی، معاف کیجئے مجھے یاد نہیں رہا تھا۔دوسرا یہ کہہ رہا تھا کہ حضور میری بیوی بیمار تھی معاف کریں آپ کو تکلیف ہوئی۔غرض ہر ایک معافی مانگ رہا تھا اور کھانا پیش کر رہا تھا۔تو خدا تعالیٰ کے ایسے بھی بندے ہوتے ہیں کہ انہیں اسباب سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ انہیں خود کہتا ہے کہ ایک جگہ بیٹھ جاؤ، ہم تمہارا رزق تمہیں خود پہنچائیں گے۔اور کبھی اللہ تعالیٰ اتنا رزق دیتا ہے کہ سید عبد القادر جیلانی کی طرح ہزار ہزار روپے گز والا کپڑا پہنے کا حکم دیتا ہے اور کبھی اتنی تنگی ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی للہ نام اور ر یم صحابہ کرام رضوانُ اللهِ عَلَيْهِمْ اَجْمَعِینَ کی طرح وہ پیٹ پر پتھر باندھے پھرتا ہے۔غرض کسی کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا رزق دیتا ہے اور کسی کو بغیر حساب کے دیتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام کو دیا۔بہر حال یہ حکم ہوتا ہے کہ بندوں کے پاس نہ جائیں۔یہ جائز ہوتا ہے کہ وہ کوشش کرے، کھیتی باڑی کرے لیکن اگر وہ اپنی حالت کو یہاں تک گرائے کہ مانگنے کے پیچھے پڑا ر ہے اور ذرا سی تکلیف پر -