خطبات محمود (جلد 24) — Page 92
$1943 92 خطبات محمود اسی طرح یہ دوسرا شخص پانچ مرتبہ خدا سے مانگنے کا اقرار کر کے جاتا ہے اور پانچ پہر لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے۔ایسا اقرار کرنے والے پر خدا کا فضل نازل کس طرح ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک بزرگ کا واقعہ سنایا کرتے تھے۔فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے رزق کے لئے ایک ذریعہ مقرر کیا ہوتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ براہ راست فرشتے آسمان سے لا کر اس کے سامنے رکھ دیں بلکہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کے دل میں ڈال دیتا ہے کہ فلاں بندے کو ضرورت ہے اسے فلاں چیز دے دو یا خواب میں دکھا دیتا ہے کہ فلاں جگہ سے تیری ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔یا کہیں اچھی بارش برسا دیتا ہے اور فصلیں اچھی ہو جاتی ہیں۔غرض ہزاروں ذریعے رزق پہنچانے کے اس نے مقرر کئے ہیں لیکن خدا تعالی بعض دفعہ کسی بندے کو کہہ دیتا ہے کہ تو تلاش بھی نہ کر بلکہ ایک جگہ بیٹھ جاہم تیرے لئے رزق پہنچادیں گے۔چنانچہ وہ بیٹھ جاتا ہے اور پھر خد اتعالیٰ بندوں کے دل میں الہام کرتا ہے کہ فلاں شخص کے لئے کھانا لے جاؤ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو کہا کہ تُو پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ جا اور اسے وہاں کئی سال تک اللہ تعالیٰ کھانا پہنچاتا رہا۔آخر ایک دن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس بندے کو دیکھا جائے کہ اس کا ایمان کیسا ہے ؟ چنانچہ اس دن لوگوں کو اس کے متعلق الہام کرنا بند کر دیا۔ادھر اس بزرگ کو فاقہ آناشروع ہوا۔ایک وقت کا فاقہ آیا دوسرے وقت کا آیا ، پھر تیسرے وقت کا آیا۔آخر اس سے بھوک برداشت نہ ہوئی اس نے سوچا کہ اس طرح بیٹھ رہنا تو ٹھیک نہیں شہر میں جا کر کسی سے کھانا لانا چاہیئے۔قریب ہی شہر تھا وہاں گئے اور ایک امیر کے دروازے پر جا کر کھانا مانگا۔جہاں سے انہیں تین روٹیاں اور کچھ سالن ملا۔جب وہ لے کر واپس چلے تو اس امیر کے دروازے پر ایک کتا بیٹھا تھا۔اس کتنے کے دل پر اللہ تعالیٰ نے الہام نازل کیا۔وہ کتا ان کے پیچھے چل پڑا۔کچھ دور جا کر ان کو خیال آیا کہ یہ کتا جو میرے پیچھے آرہا ہے شاید بھوکا ہے یہ سوچ کر انہوں نے ایک روٹی اور تیسر ا حصہ سالن کا اس کے آگے ڈال دیا۔کتا جلدی سے وہ روٹی اور سالن کھا کر ان کے پیچھے چل پڑا۔تھوڑی دور جا کر انہوں نے یہ خیال کر کے کہ اس گتے کا حق زیادہ ہے دوسری روٹی اور ایک حصہ سالن اور ڈال دیا۔کتا وہ بھی جھٹ پٹ کھا کر پیچھے ہو لیا۔اب ان کے دل میں خیال آیا کہ کیسا ڈھیٹ