خطبات محمود (جلد 24) — Page 94
$1943 94 خطبات محمود بندوں کے آگے ہاتھ جوڑنا شروع کر دے تو یہ کسی طرح جائز نہیں ہوتا۔اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ ایک مظلوم ظلم کی شکایت کرے مگر یہ کہ ہر ایک کے ساتھ اسی طرح چمٹ جائے جس طرح جو نک چھٹتی ہے اور یہ خیال کرے کہ اگر میری مدد نہ کی تو میں مر گیا۔کسی طرح درست نہیں۔یہ تو پانچ وقت کہتا ہے کہ اے خدا! میں نے تیرے سوا کسی سے نہیں مانگنا۔اور پھر ہر دروازہ سے چمٹا نظر آتا ہے۔اگر یہ خدا سے مانگتا تو کیا خدا اسے چھوڑ دیتا؟ ہم تو معمولی معمولی باتوں میں دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ خدا تعالیٰ ایسے طور پر دشمن سے بدلہ لے لیتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔ایک شخص تم کو مار کر جاتا ہے یا تمہارے بیٹے کو مارتا ہے اور گھر جاتا ہے تو اس کے بیٹے کو قولنج ہو جاتا ہے۔ایسے بیسیوں واقعات ہمارے سامنے موجود ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ جب بدلہ لینے لگو تو میرے بندوں کے متعلق رحم کا خیال رکھو۔لیکن کئی لوگ جب بدلہ لینا چاہتے ہیں تو بد دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا بیڑا غرق ہو تو اچھا ہے۔بلکہ بعض تو مجھے خط لکھتے ہیں کہ فلاں نے ہمیں دکھ دیا ہے دعا کریں کہ اس کا بیڑا غرق ہو۔میں انہیں لکھتا ہوں کہ تمہیں تو اس سے غرض ہے کہ تمہارا فائدہ ہو جائے۔اس بات سے کیا فائدہ کہ دوسرے کا بیڑا غرق ہو مگر وہ اس پر ضرور مصر رہتے ہیں کہ ہم تو تب خوش ہوں گے جب دشمن کا بیڑا غرق ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک گبری کی مثال سنایا کرتے تھے کہ اس سے کسی نے پوچھا کہ آیا تو یہ چاہتی ہے کہ تیری کمر سیدھی ہو جائے یا باقی لوگ بھی کبڑے ہو جائیں۔تو جیسا کہ بعض طبیعتیں ضدی ہوتی ہیں اس نے آگے سے یہ جواب دیا کہ مد تیں گزر گئیں میں کبڑی ہی رہی اور لوگ میرے کبڑے پن پر ہنستے اور مذاق کرتے رہے۔اب یہ تو سیدھا ہونے سے رہا۔مزہ تو جب ہے کہ یہ لوگ بھی کبڑے ہوں اور میں بھی ان پر ہنس کر جی ٹھنڈا کروں۔اسی طرح بعض حاسد طبیعتیں ہوتی ہیں کہ انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ ان کی تکلیف دور ہو۔ور ہو جائے بلکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرا تکلیف میں مبتلا ہو جائے حالانکہ اگر نادان سوچیں تو انسان سے ہزاروں غلطیاں روزانہ ہوتی ہیں اور اس کے دل میں بغض اور کینہ کپٹ نہ ہو