خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 43

$1943 43 خطبات محمود حقوق کو حاصل کرنے کے لئے ایسی جدو جہد کی جاتی ہے جو شرعاً اور اخلاقاً جائز نہیں ہوتی۔حالا نکہ اخلاق کی پابندی فرد اور قوم دونوں کے لئے ضروری ہے۔جس طرح ایک فرد کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اگر زید نے اس کے باپ کو مارا ہو تو وہ خود ہی اٹھ کر زید کو قتل کر دے یازید کے علاوہ اس کے رشتہ داروں کو بھی جوش انتقام میں قتل کرنا شروع کر دے۔اسی طرح ایک قوم کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ اگر اس پر حملہ ہو تو وہ جوشِ عداوت میں اخلاق کو نظر انداز کر دے اور حملہ آور کی قوم کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دے۔مگر ہم دنیا میں روزانہ دیکھتے ہیں کہ اگر کسی قومی مناقشہ کی بناء پر کسی مسلمان کے ہاتھ سے کوئی ہند و مارا جاتا ہے تو اس محلہ میں جو بھی مسلمان گزرتا دکھائی دے اسے ہند و مار ناشروع کر دیتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی ہندو کے ہاتھ سے کوئی مسلمان ایسے موقع پر مارا جائے تو ان کے محلہ میں سے جو ہندو بھی گزر رہا ہو اس پر حملہ کر دیتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی قانون افراد کے متعلق نافذ کیا جاسکتا ہے اور کیا افراد کو اس بات کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ اگر ان میں سے کسی فرد کو دوسری قوم کا کوئی شخص مار دے تو انہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ اس قوم کا انہیں جو شخص بھی دکھائی دے اسے قتل کر دیں۔اگر افراد کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی تو قوم کو اس بات کی اجازت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔اور اگر افراد اخلاق کے پابند ہیں تو قوم کیوں اخلاق کی پابند نہیں سمجھی جاسکتی۔مگر باوجود اس کے کہ اخلاق کی جس طرح فردی زندگی میں ضرورت ہے اسی طرح قومی زندگی بھی اخلاق کے بغیر درست نہیں ہو سکتی۔سیاسیات میں اس بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور صراحتاً اپنے مفاد کے لئے جھوٹ بولا جاتا ہے۔جنگیں ہوتی ہیں تو ایسی ایسی خبریں ایک دوسرے کے متعلق شائع کی جاتی ہیں جن میں ذرا بھی اصلیت نہیں ہوتی۔ہم ہندوستان میں رہتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہاں کی کیا حالت ہے۔ملک میں فسادات ہو رہے ہیں یا نہیں ہو رہے مگر حالت یہ ہے کہ ہم جب اپنے آپ کو بالکل امن میں دیکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت دشمن اس قسم کی خبریں پھیلا رہا ہو تا ہے کہ ہندوستان میں بڑے بھاری فسادات ہو رہے ہیں۔میں نے خود ایک دفعہ جرمن ریڈیو کو یہ اعلان کرتے سنا کہ آجکل ہندوستان میں