خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 42

$1943 42 خطبات محمود الفاظ اس لئے استعمال کئے ہیں کہ اس زمانہ میں گو انفرادی زندگی میں بھی لوگ اخلاق کا اتنا خیال نہیں رکھتے جتنا خیال انہیں رکھنا چاہیئے۔مگر کم سے کم منہ سے ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری شخصی زندگی پر اخلاق کی حکومت ہے۔لیکن جب ایک طرف وہ اس انفردایت کی حالت میں اعلیٰ اخلاق کی ضرورت کو تسلیم کرتے اور انہیں جامہ عمل پہنانے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں وہاں دوسری طرف علی الاعلان علمی بحثوں میں بھی اور عملی حالتوں میں بھی تمام سیاسی لوگ اعلیٰ اخلاق کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔حالانکہ جس طرح ایک شخص اپنی فردی زندگی میں اخلاق کی حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔اسی طرح اگر سیاسیات میں بھی اعلیٰ اخلاق کو اپنے اوپر حاکم قرار دیا جائے تو بہت سے جھگڑے اور فسادات جو آج نظر آرہے ہیں بالکل دور ہو جائیں۔مگر مشکل یہ ہے کہ جن باتوں کو فرد اپنی شخصی زندگی میں ناجائز قرار دیتا ہے انہی باتوں کو سیاستدان اپنے سیاسی کاموں میں جائز سمجھتے ہیں۔یہ روز مرہ کے فسادات جو ملک میں دکھائی دیتے ہیں کہ کہیں گاؤ کشی پر جھگڑا ہو جاتا ہے، کہیں مسجد کے سامنے باجا بجانے پر گشت و خون شروع ہو جاتا ہے۔یہ زندہ مثالیں ہیں اس بات کی کہ کس طرح ایک دوسرے کے حقوق کو ہمارے ملک میں پامال کیا جاتا ہے۔ان تمام جھگڑوں اور مناقشات کی اصل وجہ یہی ہے کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قوم کی ترقی کے لئے اگر جھوٹ بول لیا جائے یا فساد برپا کر دیا جائے یا قتل و غارت کا ارتکاب کر لیا جائے تو یہ بالکل جائز ہوتا ہے۔حالانکہ جس طرح ایک فرد کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے کو مارے یا اس کے حقوق کو تلف کرے اسی طرح کسی قوم کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی ترقی کے لئے دوسروں کو مارے یا اُن کے حقوق کو تلف کرے۔جس طرح ایک فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ اگر اس پر کسی نے ظلم کیا ہو تو وہ ظالم کو اس ظلم کی خود ہی سزا دینی شروع کر دے۔اگر کوئی قاتل ہو تو اسے قتل کر دے یا چور ہو تو اسے اپنے ملک کے دستور اور قانون کے مطابق سزا دے۔اسی طرح ایک قوم کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ اگر اس پر ظلم کیا جائے تو اس ظلم کے ازالہ کے لئے جو قانونی علاج مقرر ہو اس کو ترک کر کے ظالم کو خود ہی سزا دینی شروع کر دے۔مگر دیکھا یہی جاتا ہے کہ دھینگا مشتی سے ، زور سے ، آپ ہی آپ بغیر اس کے کہ قانونی طور پر جھگڑوں کا تصفیہ کرایا جائے اپنے