خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 44

$1943 44 خطبات محمود سخت فسادات بر پاہیں اور گورنمنٹ کے خلاف لوگ بغاوت کر رہے ہیں۔اب یہ ایک صریح جھوٹ تھا جو جرمن ریڈیو پر بولا جا رہا تھا مگر باوجود اس کے کہ یہ کھلا اور تین جھوٹ تھا۔جرمن ریڈیو پر بولنے والا اور جرمن حکومت دونوں یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہے تو جھوٹ مگر سچ سے زیادہ قیمتی ہے کیونکہ اس سے ان کی قوم کو فائدہ پہنچتا ہے۔یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ ابھی گاندھی جی پکڑے نہیں گئے تھے اور ملک میں فسادات شروع نہیں ہوئے تھے۔میں یہ نہیں کہتا کہ صرف جرمن والے ایسا کرتے ہیں، مقابل کی حکومتیں بھی ایسا ہی کرتی ہیں۔نہ میں اس سے انگریزوں اور امریکنوں کو بری سمجھتا ہوں، نہ جرمنوں اور اطالویوں کو بری خیال کرتا ہوں۔یہ ساری قومیں سیاسیات میں اخلاق کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ اگر کسی خبر سے ملک کو فائدہ پہنچتا ہو تو گو وہ غلط ہی ہو اُسے بیان کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہو تا۔لیکن دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس رویہ کو نہ بدلا جائے۔دنیا میں امن کے قیام کا ذریعہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنے سامنے چند اصول رکھیں جو بالکل صحیح اور درست ہوں اور پھر اپنی قومی، اخلاقی اور فردی زندگی کو اُن اصول کے تابع کر دیں۔تاہم میں سے ہر شخص جانتا ہو کہ دوسرا شخص کس قسم کا معاملہ کرے گا اور اس کے دل میں کسی قسم کی گھبر اہٹ نہ پیدا ہو۔اگر ہر شخص جانتا ہو کہ دوسرے لوگ ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں اور وہ ان اصول کو کبھی نظر انداز نہیں کریں گے جو اس غرض کے لئے مقرر ہیں تو دشمن کے ملک میں بھی رہ کر اس کا دل مطمئن ہو گا اور وہ سمجھے گا کہ یہ لوگ مجھ پر کوئی جھوٹا الزام نہیں لگا سکتے۔لیکن اگر ہر شخص اپنے دل میں ڈر رہا ہو کہ گو میں نے کوئی جرم نہ کیا ہو لیکن چونکہ میں فلاں ملک میں رہتا ہوں جو میرے ملک کا دشمن ہے یا فلاں قوم کے در میان آبسا ہوں جو میری قوم کی دشمن ہے اس لئے مجھ پر ہر قسم کے جرم کا الزام لگایا جا سکتا ہے تا کہ مجھے نقصان پہنچے۔تو اس صورت میں امن کہاں حاصل ہو سکتا ہے اور کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ دنیا مہذب و متمدن ہو گئی ہے۔غرض سیاسی لحاظ سے ہمیں ساری دنیا سے اختلاف ہے۔کسی سے کم اور کسی سے زیادہ۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض زیادہ ظلم کرتے ہیں اور بعض کم ظلم کرتے ہیں لیکن