خطبات محمود (جلد 24) — Page 264
$1943 264 خطبات محمود تیرہ سو سال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ ان کاموں کی تکمیل کے لئے اور مامور بھی بھیج سکتا ہے مگر اس خیال سے کہ اللہ تعالیٰ اور بھی بھیج سکتا ہے جو چیز ہمیں حاصل ہے اسے ضائع نہ کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ اور مامور بھیج سکتا ہے۔اس خیال کی بناء پر جو علوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں عطا ہوئے ہیں ان کو ضائع کر دینا مناسب نہیں۔اور انہیں پوری طرح محفوظ کر لیناضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے صحابہ فوت ہو چکے ہیں۔اب بہت تھوڑے باقی ہیں اور ان میں سے بھی وہ جن کو حضور علیہ السلام کی صحبت نصیب ہوئی اور جن کو حضور علیہ السلام کی دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم، حدیث اور اسلامی علوم عطا کئے وہ تو اب بہت ہی تھوڑے ہیں۔مخالفین نے اسلام کے ہر پہلو پر اور نئے نئے رنگ میں اعتراضات کئے ہیں۔اور اس لئے ضرورت ہے کہ اسلام کے تمام پہلوؤں پر نئے سرے سے روشنی ڈالی جائے۔ورنہ خطرہ ہے کہ پھر وہی گمراہی دنیا میں نہ پھیل جائے جسے دور کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں تشریف لائے۔پس ان کاموں سے جو دوست مجھ سے ہی کرانا ضروری سمجھتے ہیں بہت بڑا کام باقی ہے اور شاید اس کام کا ابھی چوتھا حصہ بھی مکمل نہیں ہوا۔اور ضرورت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم میں جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحبت یافتہ ہیں اور جنہوں نے حضور کی دعاؤں سے حصہ کو افر پایا ہے یا جن پر آپ کا علم بذریعہ الہام اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ان کی موجودگی میں یہ کام مکمل کر سکیں تا آئندہ صدیاں اسلام سے قریب تر ہوں دُور ترنہ ہوں۔یہ اس کام کے کرنے کا زمانہ ہے مگر موجودہ حالت یہ ہے کہ میں اس سال کا اکثر حصہ بیمار رہا ہوں اور کوئی کام نہیں کر سکا۔لیٹے لیٹے ڈاک دیکھ لی یا بعض خطوط کے جواب نوٹ کرا دیئے۔تو یہ کوئی کام نہیں ہے۔اصل کام اسلام کی اس روشنی میں توضیح و تشریح ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ نازل فرمائی اور یہ میں اس سال خطبات میں بھی بیان نہیں کر سکا۔سال میں چھ ماہ میں بیمار رہا ہوں اور چھ ماہ نیم بیمار۔گویا آدھا وقت تو یوں ضائع ہو گیا۔