خطبات محمود (جلد 24) — Page 263
$1943 263 خطبات محمود اعلان کر دیا کہ میں ایک سال تک نہ کوئی نکاح پڑھاؤں گا اور نہ کسی دعوت میں شریک ہوں گا۔اس میں میں نے ایک سال کی شرط رکھی ہے۔میں نہیں چاہتا کہ ہمیشہ کے لئے یہ پانبدی کر دوں۔اگر اللہ تعالیٰ ایک سال میں مجھ پر فضل کر دے، میری صحت کو درست کر دے اور میں دوستوں کو خوش کر سکوں تو کیا حرج ہے۔تو میں نے ایک سال کے لئے یہ اعلان کیا تھا۔اس میں استثنی کی گنجائش تھی اور اب میں دیکھتا ہوں کہ بعض دوستوں کی طرف سے کہا جانے لگا ہے کہ ہم استثنیٰ کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اور اعلان کے بعد استثنیٰ کے طور پر ہیں بچیں نکاحوں کے پڑھانے اور دس پندرہ دعوتوں میں شریک ہونے کی اطلاع آچکی ہے۔ایسی صورت میں میرے لئے کیا چارہ ہے۔میں تو الْحَمْدُ لِلہ حال اچھا ہے کہتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ادھر میں نے یہ بات کہی اور ادھر یہ مطالبہ ہو گا کہ دعوت میں چلیں یا نکاح کا اعلان کر دیں۔ڈاکٹر مجھے سالہا سال سے یہ کہتے ہیں کہ میری صحت کے لئے چلنا پھرنا اور اکسر سائز کرنا ضروری ہے۔بیماری کی وجہ سے طبیعت میں یوں بھی کچھ کسل پیدا ہو جاتا ہے جو ورزش میں مانع ہوتا ہے مگر سیر وغیرہ کرنے سے میں یوں بھی ڈرتا رہتا ہوں کہ لوگ پیچھے پڑ جائیں گے اور سمجھیں گے اب تو سیر کرتے ہیں اس لئے کوئی شبہ نہیں کہ تندرست ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ سیر تندرسی کی علامت نہیں بلکہ کونین کی گولی کی طرح ہے جو ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق کی جاتی ہے۔مجھے جتنی بیماریاں ہیں وہ سب ایسی ہیں کہ جن کے متعلق طبیبوں کی یہ رائے ہے کہ ان کا باعث زیادہ دماغی کام اور بیٹھے رہنا ہے۔مثلاً نفرس ہے۔اب ایگزیما ہوا ہوا ہے، کھانسی ہے، یہ سب بیٹھے رہنے اور زیادہ دماغی کام کرنے سے ہوتی ہے۔اور چلنا پھرنا، سیر کرنا، ورزش کرنا ان کا علاج ہے۔اور ڈاکٹر مجھے ہمیشہ یہی مشورہ دیتے ہیں مگر انہیں میری مصیبت کا پتہ نہیں۔میں تو باہر نکلتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں کہ دعوتیں ہونے لگیں گی اور اس ڈر سے میں علاج بھی نہیں کر سکتا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ابھی اسلام کے بہت سے کام کرنے والے ہیں۔ابھی بہت کام باقی ہیں۔گو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کہ جس نے