خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 265

خطبات محمود 265 $1943 اور اب تو صحت بھی ایسی ہوتی ہے کہ پورا کام نہیں ہو سکتا۔پہلے جہاں 17، 18 گھنٹے کام کر لیتا تھا اب 6، 7 گھنٹے بھی نہیں کر سکتا۔اور اس طرح سال کے تین ماہ ہی رہ جاتے ہیں۔اور وہ بھی نیم بیمار کے۔اور اس قلیل وقت میں سے بھی اگر اور ضائع ہو تو کام کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔اچھی طرح یاد رکھو کہ اسلام پر ایسا دور آنے والا ہے جب اسلام گفر سے آخری ٹکر لے گا اور یہ زمانہ ان سامانوں کے جمع کرنے کا ہے جن سے عیسائیت اور دوسرے مذاہب کو پاش پاش کر دیا جائے گا۔اگر یہ سامان جمع نہ ہوئے تو لڑائی کا یہ پہلو نمایاں طور پر کمزور ہو جائے گا۔گو اللہ تعالیٰ معجزانہ فتح دے دے تو اور بات ہے۔پس اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ جس جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی جتنی جتنی سمجھ دی ہے اس کے مطابق اسلامی علوم کو محفوظ کر دیا جائے۔ورنہ جو جو لغویات اسلام کی طرف منسوب کی گئی ہیں ان سے بہت زیادہ گمراہی پھیلنے کا اندیشہ ہے اور آنے والی نسلیں اس صداقت سے محروم رہ جائیں گی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ظاہر کی ہے۔پس میں پھر ایک دفعہ احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اب یہ حالت ہے کہ میرا نصف سے زیادہ وقت بیماری میں ضائع ہو جاتا ہے اور جو نصف وقت رہتا ہے اس میں کمزوری کی وجہ سے زیادہ کام نہیں کر سکتا۔اس لئے دوستوں کو چاہیے کہ ان باتوں میں عقل و خرد سے کام لیں اور اسلام سے محبت کا ثبوت دیں اور میرے وقت کو خواہ مخواہ ضائع ہونے سے بچائیں۔ورنہ یہ مت سمجھیں کہ یہ باتیں برکت دینے والی ہیں۔ایسی باتیں برکت دینے والی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو جایا کرتی ہیں۔یہ میرے ساتھ محبت کا اظہار نہیں بلکہ تکلیف دینے والی باتیں ہیں۔یہ تو ایسی ہی محبت ہے کہ ایک پٹھان دوست نے سنایا کہ ایک پٹھان کسی پیر کا مرید تھا اور بڑے دور دراز مقام سے چل کر سال میں ایک دوبار اس کی زیارت کے لئے آیا کرتا تھا اور ہمیشہ اس سے عرض کرتا تھا کہ کبھی ہمارے ہاں تشریف لائیے۔ہمارا علاقہ بہت سر سبز و شاداب ہے۔بڑے اعلیٰ نظارے ہیں۔آخر ایک دفعہ پیر صاحب راضی ہو گئے اور اس کے گاؤں میں چلے گئے۔وہ انہیں ایک پہاڑی پر لے گیا اور کہنے لگا دیکھئے یہ کیسی خوبصورت جگہ ہے۔کیسے عمدہ عمدہ نظارے ہیں۔پیر صاحب بھی دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ان پر ایسا اثر ہوا