خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 262

$1943 262 خطبات محمود حالت یہ ہے کہ خواہ کتناضروری کام کیوں نہ ہو، خلیفہ کی صحت اجازت دے یا نہ دے، خرابی صحت کی وجہ سے اس کی عمر 10 سال کم ہوتی ہے تو ہو جائے مگر یہ ضروری ہے کہ اسے ولیمہ کی دعوت میں آنا چاہیئے۔ایک وقت تک میں نے اس بات کو برداشت بھی کیا جبکہ میرا ایسا کرنا اسلام کی خدمت کے راستہ میں روک نہ بن سکتا تھا مگر اب میری صحت ایسی نہیں رہی کہ سوائے اس کام کے جو خدمتِ اسلام کا میرے ذمہ ہے یا کسی ایسے کام کے جو صحت کو درست کرنے والا ہو کوئی اور کام کر سکوں۔اگر میں ایسا کروں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ میں اس کے لئے اسلام کے کام کو قربان کروں اور اس کے لئے میں تیار نہیں ہوں۔مجھ سے جب بھی صحت کے متعلق کوئی سوال کرتا ہے تو جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں تین جواب ہی میں دے سکتا ہوں۔یا کہوں گا اچھا ہوں، یا بیمار ہوں اور یا یہ کہ نیم بیمار اور نیم تندرست ہوں۔مگر جب میں کہتا ہوں کہ اچھا ہوں تو اس کے معنی یہی ہوتے ہیں جیسے چراغ سحری ٹمٹماتا ہے۔اگر ایک دن بیچ میں حالت اچھی ہو جاتی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں کہ میں تندرست ہو گیا ہوں۔مُردہ بھی تو مرنے سے پہلے سانس لے لیتا ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ اگر ایک دن طبیعت اچھی رہتی ہے تو دوسرے دن پھر خراب ہو جاتی ہے۔مومن کا کام ہے کہ ایک دن کے لئے بھی تکلیف میں کمی ہو تو کہے الْحَمْدُ لِلہ اچھا ہوں۔مگر حالت یہ ہے کہ ایک دوست آتے ہیں، پوچھتے ہیں کیا حال ہے۔میں کہہ دیتا ہوں۔اَلْحَمْدُ لِلہ اچھا ہوں تو وہ جھٹ کہہ دیں گے اچھا پھر شام کو دعوت ہمارے ہاں ہے یا اگر میری حالت کچھ اچھی ہے تو میں کہتا ہوں اَلْحَمْدُ لِله پہلے سے اچھا ہوں تو وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ فضل کرے گا کل تک بالکل صحت ہو جائے گی اور کل دو پہر ہمارے ہاں آپ دعوت قبول فرمائیں۔ایک حصہ دوستوں کا بے شک ایسا ہے کہ اگر میں بیمار ہوں اور کہوں کہ بیمار ہوں تو افسردگی کا اظہار کر کے خاموش ہو جاتا ہے مگر ایک حصہ تو ایسا ہے کہ جب میں کہوں میں بیمار ہوں تو کہتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں، ہم سواری کا انتظام کر کے لے چلیں گے اور آپ کو ہر گز کوئی تکلیف نہ ہو گی۔گویا وہ اپنی دعوت کو نماز سے بھی زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔میں بعض اوقات کہتا ہوں کہ نماز تو مجھے ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے مسجد میں جا کر ادا کر نا معاف کر دیا ہے مگر آپ کی دعوت معاف نہیں ہو سکتی۔آخر تنگ آکر میں نے