خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 241

* 1943 241 خطبات محمود طرف سے تدبیر شروع ہو جاتی ہے۔یہ قانون دنیوی قانون میں ڈیما کریسی سے ملتا ہے۔یعنی حکومت ہوتی تو ویسی ہی ہے جیسے اور حکومتیں۔اس حکومت کے جو ذمہ دار افراد ہوتے ہیں وہ بھی ویسے ہی قانون بناتے ہیں جیسے اور حکومتیں قانون بناتی ہیں۔وہ بھی اپنے قوانین کا ویسی ہی سختی سے نفاذ کرتے ہیں جیسے اور افرادِ حکومت اپنے قوانین کا سختی سے نفاذ کرتے ہیں۔غرض ظاہری لحاظ سے قانون کی تشکیل اور اس کے نفاذ کے لحاظ سے اس حکومت کو دوسری حکومتوں سے کوئی امتیاز حاصل نہیں ہوتا۔اگر کوئی امتیاز ہوتا ہے تو یہ کہ عوام یہ نہیں سمجھتے کہ یہ کسی غیر کی حکومت ہے بلکہ وہ سمجھتے ہیں یہ ہماری حکومت ہے۔اور اس کی خرابی ہماری خرابی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادھر حاکم دن رات ایسی تدابیر میں مشغول رہتے ہیں جن کے ماتحت ان کے قوم کے افراد کی ترقی ہو۔انہیں عزت حاصل ہو۔ان کے رتبہ اور ان کی وجاہت میں زیادتی ہو۔اور دوسری طرف عوام اس بات کے نگران ہوتے ہیں کہ کہیں ان کے حاکم ست نہ ہو جائیں۔اور اس طرح ان کی حکومت ان کے لئے فائدہ رساں ہونے کی بجائے مہلک اور ضرر رساں نہ ہو جائے۔غرض دونوں ایک دوسرے کے نگران ہوتے ہیں۔حکام عوام کے نگران ہوتے ہیں اور عوام حکام کے نگران ہوتے ہیں۔اگر کبھی حاکموں میں سے کوئی حاکم غافل ہو جائے یاست ہو جائے یا ایسا حاکم مقرر ہو جو حکومت کے لحاظ سے اس کا اہل نہ ہو تو عوام میں شور پڑ جاتا ہے کہ ہماری حکومت یوں کیوں کر رہی ہے۔یوں کیوں نہیں کرتی۔اور جب عوام سست ہو جائیں تو حکام ان کی ستی کو دور کرنے کے لئے موجود ہوتے ہیں۔یہ نظارہ بھی وہی ہوتا ہے جسے روحانی دنیا میں تقدیر اور تدبیر کا نام دیا جاتا ہے۔جیسے کبھی تدبیر کا زور ہو تا ہے اور کبھی تقدیر کا زور ہوتا ہے۔اسی طرح چونکہ ایسی حکومت در حقیقت عوام کی حکومت ہوتی ہے اس لئے جب حکومت میں کوئی نقص پیدا ہو جاتا ہے تو عوام الناس میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور جب عوام میں کوئی نقص پیدا ہو تو حکومت اس نقص کے ازالہ کے لئے مستعد ہو جاتی ہے۔اس طرح وہ دونوں ایک دوسرے کو جگانے اور بیدار رکھنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔اور در حقیقت یہ تقدیر اور تدبیر کا ہی ایک مظاہرہ ہے جو دنیا میں اس رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔