خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 242

خطبات محمود 242 $1943 اسی نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے جماعت میں خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے قیام کی تحریک کی تھی۔یوں تو جماعت کی اصلاح خلیفہ کے ذمہ ہے اور یا پھر خلیفہ کے نائب جو ناظر وغیرہ ہیں ان کے ذمہ ہے مگر دنیا میں یہ ہمیں قانونِ قدرت دکھائی دیتا ہے کہ کبھی ایک پر نیند آجاتی ہے اور کبھی دوسرے پر نیند آجاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام بھی اس حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے۔آپ کا الہام ہے۔اُفْطِرُ وَآصُوْمُ - 1 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں کبھی افطار کرتا ہوں اور کبھی روزہ رکھتا ہوں۔اب واقع یہ ہے کہ خدا نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے مگر الہام یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ روزہ بھی رکھتا ہے اور افطار بھی کرتا ہے۔پس در حقیقت اس الہام کا بھی وہی مفہوم ہے جس کی طرف میں نے ابھی اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کبھی ایسا زمانہ آتا ہے کہ میری صفات جوش میں آجاتی ہیں اور میں خود لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرنے کے لئے تقدیر کو عمل میں لاتا ہوں۔اور کبھی ایسا زمانہ آتا ہے کہ میں اپنی ان صفات کو ٹھہرا دیتا ہوں اور بندہ جوش میں آکر میری ملاقات کے لئے تدابیر اور جدوجہد میں مشغول ہو جاتا ہے۔اسی طرح انسانی حکومتوں میں بھی کبھی ایک طرف غفلت طاری ہو جاتی ہے۔تب جو حصہ بیدار ہوتا ہے وہ غافل حصہ کو چست اور ہوشیار کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور جب کسی دوسرے وقت وہ چست اور ہوشیار حصہ غافل ہو جاتا ہے تو جو حصہ بیدار ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کی غفلت کو دور کرنے میں حصہ لینے لگ جاتا ہے۔جب تک کسی قوم میں یہ دونوں حصے متوازی اور ایک دوسرے کے بالمقابل نہ ہوں اس وقت تک وہ قوم کبھی لمبی زندگی حاصل نہیں کر سکتی۔زندگی تو اسے ملتی ہے مگر دو متوازی اور متقابل حصوں کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت جلد مر جاتی ہے۔مثلاً جس قوم میں سارا انحصار حاکموں پر ہو اس قوم کے افراد بھی بہت جلد مر جاتے ہیں۔کیونکہ کبھی عوام بھی غافل اور سست اور لاپر واہ ہو جاتے ہیں اور ان کو بیدار کرنے والا کوئی نہیں ہو تا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نیند مبدل بہ موت ہو جاتی ہے۔لیکن جب کوئی قوم یا جماعت یہ سمجھتی ہو کہ ایسے حکام مقرر ہونے چاہئیں جو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھنے والے ہوں اور دوسری طرف افراد یہ سمجھتے ہوں کہ ان پر قومی لحاظ سے کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہیں اور یہ کہ بعض افراد کو اگر