خطبات محمود (جلد 24) — Page 240
* 1943 240 خطبات محمود غرض پھر تدبیر کا زور شروع ہو جاتا ہے۔اور اس تدبیر کے نتیجہ میں دنیا میں ایک عام بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔گویا پہلے تقدیر بیداری پیدا کرتی ہے اور پھر تدبیر بیداری پیدا کرتی ہے۔پہلے تقدیر جوش میں آکر بندوں اور خدا میں اتصال پیدا کرتی ہے اور پھر تدبیر جوش میں آکر خالق اور مخلوق کو ملا دیتی ہے۔اس تدبیر کے زمانہ میں بھی گو خدا کے فضل نازل ہوتے ہیں مگر اس دور میں فضل کی بنیاد نیچے سے شروع ہوتی ہے اور اس طرح خدا اور بندوں کے تعلق کی مثال وہی ہو جاتی ہے جو ماں اور بچے کے تعلق کی ہوتی ہے۔کسی وقت بچہ ماں کو یاد کرتا ہے اور کسی وقت ماں بچہ کو یاد کرتی ہے۔کبھی بچہ ماں کو آکر چمٹ جاتا ہے۔وہ کھیل رہا ہوتا ہے کہ کھیلتے کھیلتے یکدم اس کے دل میں ماں کی محبت پیدا ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اپنی ماں سے ملے دیر ہو گئی چنانچہ وہ کھیلتا کھیلتا دوڑتے ہوئے آتا ہے اور اپنی ماں کے گلے میں محبت سے ہاتھ ڈال دیتا ہے۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچے کو احساس نہیں ہو تا مگر ماں کو احساس ہو جاتا ہے وہ کام کرتی کرتی یکدم اسے چھوڑ دیتی ہے اور ادھر ادھر تلاش کرتی پھرتی ہے کہ اس کا بچہ کہاں گیا اور جب وہ ملتا ہے تو اسے اپنی چھاتی سے چمٹا لیتی ہے۔یہی مثال عالم روحانی کی ہے۔کبھی خدا کے دل میں بندوں کی محبت کا جوش پید ا ہوتا ہے اور کبھی بندوں کے دلوں میں خدا کی محبت کا جوش پیدا ہوتا ہے۔خدا کی محبت کو تقدیر کہا جاتا ہے اور بندے کی محبت کو تدبیر کہا جاتا ہے۔جس طرح ماں بعض دفعہ محبت سے بے تاب ہو کر بچے کی طرف دوڑتی اور اسے اپنے سینہ سے لگا لیتی ہے اسی طرح کی محبت جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو تو اسے تقدیر کہا جاتا ہے اور جب ویسی ہی محبت لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی پیدا ہو جیسے بچہ کے دل میں بعض دفعہ اپنی ماں کی محبت جوش میں آتی ہے تو اسے روحانی دنیا میں تدبیر کا نام دیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ چلتا اور چلتا چلا جاتا ہے۔کبھی اس طرف سے اور کبھی اُس طرف سے۔کبھی تقدیر کے زور سے اور کبھی تدبیر کے زور سے۔اور اس طرح بندوں اور خدا کے تعلق میں کمی واقع ہونے میں نہیں آتی۔جب انسان خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی تقدیر جوش میں آجاتی ہے۔اور جب خدا تعالیٰ اپنی تقدیر کسی مامور اور مرسل کے ذریعہ ایک دفعہ ظاہر کر دیتا ہے تو گو وہ بندوں کو بھولتا نہیں مگر اس کی بعض صفات میں ایک قسم کا سکون واقع ہو جاتا ہے۔اس وقت بندوں کی