خطبات محمود (جلد 24) — Page 239
$1943 239 خطبات محمود فرمائیے آپ اس کی کیا قیمت لیں گے۔طالبعلم بھی اپنے ذہن میں اندازہ لگا لیتا کہ کتنی قیمت مانگوں گا تو مل جائے گی اور کتنی قیمت مانگوں گا تو مجھے دھکے دے کر باہر نکال دیا جائے گا۔اسے علم ہو تا کہ اس گھڑے میں ہزاروں روپے ہیں مگر وہ کیا کر سکتا تھا۔آخر یہی کہتا کہ میں پانچ یا دس روپے میں یہ گھڑا آپ کے پاس فروخت کرتا ہوں۔چنانچہ پانچ یا دس جتنے روپے وہ مانگتا اتنے روپے اسے دے دیتا اور گھڑا اٹھا کر گھر میں رکھ لیتا۔اور جب کوئی کہتا کہ آپ نے زکوۃ کا مال تو پھر اپنے گھر میں رکھ لیا ہے تو وہ کہتا یہ مال تو میں نے خریدا ہے۔زکوۃ میں نے دے دی تھی۔تو وہ تمام ذرائع جو اللہ تعالیٰ نے قومی پاکیزگی کے لئے یا دل کی پاکیزگی کے لئے یا دماغ کی پاکیزگی کے لئے یا خیالات کی پاکیزگی کے لئے یا افکار کی پاکیزگی کے لئے مقرر کئے ہیں ان کو لوگ چھوڑ بیٹھتے ہیں۔اور اپنے نفس کی خرابی اور گندگی کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ کی تقدیر جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے کسی مامور اور مرسل کو لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث فرماتا ہے۔وہ مامور اور مرسل دنیا میں آتا اور تقدیر کے ماتحت لوگوں کو کھینچ کر خدا تعالیٰ کے پاس لے جاتا ہے۔تب ایک نیا تعلق خدا اور اس کے بندوں کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔اس تغیر کے ماتحت پھر دنیا اٹھتی ہے اور تدبیر میں منہمک ہو جاتی ہے۔مگر میری مراد اس تدبیر سے دنیوی کام نہیں ، نہ تجارت، زراعت یا صنعت و حرفت کے کام مراد ہیں بلکہ میری مراد تدبیر سے یہ ہے کہ نبی کی بعثت کے بعد لوگ روحانی تدابیر کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں یہ نظارہ نظر آنے لگتا ہے کہ لوگ قوم کی اصلاح میں لگے ہوئے ہیں۔وہ ان کے افکار کو درست کرتے ہیں۔وہ ان کے اعمال کو درست کرتے ہیں۔وہ ان کے اخلاق کو درست کرتے ہیں۔وہ انہیں ضبط نفس کی تعلیم دیتے ہیں۔ان پر اللہ تعالیٰ کے نشانات اور اس سے تعلق رکھنے کی برکات ظاہر کرتے ہیں۔ان کے اندر دین کی محبت پیدا کرتے ہیں۔اور انہیں اخلاص اور ایمان کا ایک نمونہ بناتے ہیں۔اسی طرح یہ نظارہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ لوگ نمازوں میں مشغول ہوتے ہیں، روزے رکھتے ہیں ، حج کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، چندوں کی ادائیگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کا ہر قدم پہلے قدم سے آگے ہو۔ان کا ہر دن انہیں پچھلے دن سے زیادہ ترقی کے میدان میں بڑھانے والا ہو۔