خطبات محمود (جلد 24) — Page 199
*1943 199 خطبات محمود خدا نے مقرر کیا تو اس سے بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوتا جو ایک گٹھلی برابر سونا بنا کر اسے حاصل ہوا۔غیر طبعی طریق اختیار کر کے اس نے دوستوں کی مجالس کو چھوڑا، تنہائی اختیار کی، سرمایہ لگایا اور لاکھوں روپے اس میں کامیاب ہونے کے لئے خرچ کئے۔سالہا سال آگ کے آگے بیٹھنا پڑا، دھوئیں اور راکھ میں پھونکیں مارتا رہا۔ان سارے اوقات اور لاکھوں روپے خرچ کے بعد جو اسے حاصل ہو اوہ ایک گٹھلی برابر سونا ہے۔اگر وہ صحیح طریق اختیار کرتا اور اس رقم کو جو سونا بنانے کی دُھن میں اس نے خرچ کی بازار سے سونا خرید تاتو شاید 16،15 سو گنازیادہ خرید سکتا۔مکہ مکرمہ میں درخت نہیں اگ سکتے۔وہاں بعض نے باغ لگانے کی کوشش کی ہے مگر اس غیر طبعی طریق اختیار کرنے والے کی عقل پر تعجب ہے۔وہ ہزاروں ہزار روپیہ خرچ کر کے طائف سے مٹی لایا، گڑھے کھدوا کے ان میں مٹی ڈالی اور پھر ان گڑھوں میں وہ درخت بونے میں کامیاب ہوا مگر اس نے مٹی منگوا کر ڈلوانے اور گڑھے کھودنے میں کس قدر خرچ کیا اور اس قدر خرچ کرنے کے بعد جو پھل اُتر ا وہ نہایت ہی تھوڑا تھا۔پس جو نتیجہ نکلا اسے اس سے کیا حاصل ہوا لیکن اگر وہ اس ہزار یالا کھ روپے کو جائز اور صحیح طور پر استعمال کرتا تو ممکن ہے کہ اتنی ہی رقم کو خرچ کر کے سو گنا فائدہ اٹھا لیتا۔جتنا اس نے غیر طبعی طریق پر خرچ کر کے اٹھایا۔یوں تو لوگ کمروں میں بھی درخت لگا لیتے ہیں۔بعض لوگ شیشے کے کمرے بنا کر پودے لگاتے ہیں۔ان کا باغبان بھی مقرر ہوتا ہے۔ماہر فن مقرر کئے جاتے ہیں۔تجربے کئے جاتے ہیں۔ان سے درخت آگ بھی آتا ہے۔بعض اوقات دوسرے کسی غیر طبعی طریق سے بعض سامان کر دیئے جاتے ہیں تو گرم ملک کا درخت سر د ملک میں اور سر د ملک کا درخت گرم ملک میں اگ آتا ہے۔مگر اس سے جو پھل ملتا ہے وہ خرچ کے مقابلہ میں کم ہوتا ہے۔کیونکہ سر د ملک کا درخت گرم علاقے میں بوئیں یا گرم کا سرد میں بوئیں تو اس پر جو خرچ آئے گا اس کا نتیجہ نقصان کی صورت میں ہی نکلے گا۔اگر وہ درخت پھل دے گا تو وہ پھل بہت ہی کم ہو گا۔ہندوستان میں سینکڑوں آدمی اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ بے موسم کا آم پیدا کیا جائے۔انہوں نے بیسیوں قسم کے آم پیدا کئے ہیں اور مختلف موسم میں پھل دینے والے آموں کا