خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 200

$1943 200 خطبات محمود تجربہ کیا ہے۔نتیجہ کیا ہے؟ یہی کہ کسی پر چار دانے ہوتے ہیں، کسی پر پانچ۔وہ سارے سال میں اس کا دسواں حصہ بھی نہیں بنتے جتنا دوسرا درخت اپنے اصل موسم میں پھل دے دیتا ہے۔یہی حال ان تحریکات کا ہوتا ہے جو الہی تحریکات ہوتی ہیں۔یعنی جس طرح آموں کے پھل دینے کا وقت ہوتا ہے اور خربوزوں کے پکنے کا وقت مقرر ہے، گندم کے پکنے کا موسم ہے۔اگر اس موسم میں جو ان کے بونے کا ہے ان کی کاشت کی جائے تو کثیر غلہ پید اہو جاتا ہے اور انسان نفع اٹھالیتا ہے۔اسی طرح الہی تحریکات کے کامیاب کرنے پر اگر وقت پر کوشش ہو تو نتائج بہت شاندار نکلتے ہیں۔مگر دوسرے وقت نتیجہ ایسا خوش گن نہیں ہو تا۔جب رسول کریم صلى الم نے دعویٰ کیا تو لوگوں نے بڑی بڑی قربانیاں کیں اور اسلام کی تعلیم کو لے کر اکناف عالم میں پھیل گئے اور قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر تبلیغ کے میدان میں نکل کھڑے ہوئے۔قربانیاں کیں اور اس کی تعلیم کو پھیلایا۔اس وقت قرآن کے اور حدیث کے الفاظ وہی تھے جو آج ہیں۔اور لغت کے لحاظ سے اس کا وہی مفہوم نکالا جاتا تھا جو آج نکالا جاتا ہے۔لیکن وہ اسلام کی ترقی کا موسم تھا۔صحابہ نے تبلیغ کی اور اسلام پھیلتا چلا گیا۔لیکن جب قرآن کریم کے پھیلنے کا وقت گزر گیا اور اسلام کی ترقی کا وقت ختم ہوا تو لوگ قرآن کریم کو پڑھتے تھے مگر وہ دلوں میں نہیں اترتا تھا۔یہی قرآن تھا جس کو کافر بھی سنتے تھے اور سر دھنتے تھے کہ واہ واہ کمال کر دیا اور اب یہی قرآن ہے جس کو سن کر لوگ قہقہہ لگاتے ہیں اور کہتے ہیں اس میں دھر اہی کیا ہے؟ اس سے فائدہ ہی کیا ہے؟ یہ تو مسجدوں کے ملانوں کے پڑھنے کے لئے ہے یا بے کاروں کا کام ہے کہ اسے پڑھیں۔اس قرآن سے نہ ہماری سیاست کو کوئی فائدہ ہے ، نہ صنعت کو۔ہمیں وہ کتابیں پڑھنی چاہئیں جن سے ہمارے پیشے ترقی کریں، سیاست ترقی کرے اور ہمیں یورپ کا پڑھنا چاہیئے۔دیکھو یہی قرآن پہلے بھی تھا جس کو سن کر دشمن بھی سر دُھنتا تھا مگر اب لوگ کہتے ہیں کہ ہم کیوں اس کو پڑھنے میں وقت ضائع کریں۔اس سے تو بہتر ہے کہ ہم غالب کے شعر پڑھیں اور اگر کوئی قرآن کریم پڑھنا شروع کر دے تو سارے جسم پر چیونٹیاں رینگنی شروع ہو جاتی ہیں۔