خطبات محمود (جلد 24) — Page 160
* 1943 160 خطبات محمود رہر قسم کے حالات میں ہمیں آرام رہتا ہے۔دیکھو اس وقت لڑائی ہو رہی ہے اور شاذونادر کے طور پر ایسا موقع بھی آجاتا ہے جب پینے کے لئے پانی میسر نہ آئے لیکن عام طور پر ہر جگہ پینے کے لئے پانی میسر آجاتا ہے۔پس مومن کہیں چلا جائے اسے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو سکتی کیونکہ پانی ہر جگہ موجود ہو گا اور وہ اسے پی کر اپنی ضرورت کو پورا کر سکے گا۔اسی طرح پیٹ بھرنے کے لئے ہر جگہ غذائیں موجود ہوتی ہیں۔پس انسان کو چاہیے کہ وہ ایسی عادتیں نہ ڈالے اور ایسی غذائیں اپنے لئے تجویز نہ کر لیا کرے جن کے نہ ملنے کی وجہ سے اسے اپنے علاقہ میں یاکسی اور علاقہ میں دکھ اور تکلیف محسوس ہو۔میں نے تحریک جدید کو جاری کرتے وقت اسی اصل کو مد نظر رکھا تھا۔اور میں نے کہا تھا کہ ہمیشہ ایک کھانا کھاؤ۔میر امطلب یہ تھا کہ جب انسان ایک کھانا کھائے گا تو لازمی طور پر وہ ایسا ہی کھانا کھائے گا جس سے اس کا پیٹ بھرے۔یہ تو نہیں کر سکتا کہ وہ ایک کھانا بھی کھائے اور پھر وہ کھانا ایسا ہو جو صرف زبان کے ذائقہ کے لئے ہو پیٹ بھرنے کے لئے کافی نہ ہو۔مثلاً چٹنیاں اور مربے ایسی چیزیں ہیں جن پر انسان گزارہ نہیں کر سکتا۔یہ صرف زبان کے ذائقہ کے لئے ہوتی ہیں۔پس میری غرض یہ تھی کہ جب ہماری جماعت کے لوگ ایک کھانا کھانے پر آجائیں گے تو لازماً وہ ایسا ہی کھانا کھائیں گے جو ان کا پیٹ بھرے۔ان کھانوں کو چھوڑتے چلے جائیں گے جو محض ذائقہ کی درستی کے لئے ہوتے ہیں۔جو لوگ کئی کھانوں کے عادی ہوتے ہیں وہ بعض ایسے کھانے بھی اپنے دستر خوان پر لے آتے ہیں جن کا پیٹ بھرنے سے تعلق نہیں ہوتا۔صرف زبان کے چسکہ سے تعلق ہو تا ہے۔ورنہ ایک کھانا کھانے والے ہمیشہ ایسا ہی کھانا کھاتے ہیں جن سے ان کا پیٹ بھر جائے۔زبان کے ذائقہ کے لئے وہ کسی اور کھانے کی طرف نہیں جاتے۔صرف ملا لوگوں کے متعلق میں نے سنا ہے کہ وہ بعض دفعہ خالی فرنی پر گزارہ کر لیتے ہیں اور اتنا کھا جاتے ہیں کہ انہیں کسی اور کھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔لیکن عام طور پر خالی فرنی پر لوگ گزارہ نہیں کر سکتے۔اس لئے لازمی طور پر انہیں روٹی سالن یا چاول سالن تیار کرنا پڑتا ہے اور بقیہ کھانوں سے وہ بچ جاتے ہیں۔کیونکہ روٹی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کا پیٹ بھرنے کے لئے کافی ہے۔خواہ گیہوں کی روٹی ہو یا جو کی، باجرے ނ