خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 161

$1943 161 خطبات محمود کی ہو یا تکی کی، بہر حال روٹی پیٹ بھرنے کے لئے کافی ہوتی ہے اور اس طرح ایک کھانا کھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ان کھانوں کو چھوڑ دیتا ہے جو محض زبان کے ذائقہ کے لئے ہوتے ہیں، پیٹ بھرنے کے لئے نہیں ہوتے اور ان کھانوں کو اختیار کرتا ہے جو پیٹ بھر دیتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں آج کل یورپ میں بڑا شور اس بات پر ہے کہ لوگوں کو ہوٹلوں میں دو دو تین تین کھانوں سے زیادہ کھانے نہیں ملتے اور ان کے لئے یہ امر بڑی تکلیف کا موجب ہے لیکن ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید کے ماتحت جو در حقیقت احیاء تھا رسول کریم سلام کی تعلیم کا ایک کھانا کھانے میں ذرا بھی گھبراہٹ اور تکلیف محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک کھانا کھانے سے ہماری ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔تعیش کے سامان ہم نے اپنے لئے پیدا ہی نہیں کئے کہ ان کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں تکلیف محسوس ہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے ہمارے لئے ایسی آسانی پیدا کر دی ہے کہ جو بات ان کے لئے تکلیف کا موجب ہے وہ ہمارے نزدیک نہ صرف تکلیف کا موجب نہیں بلکہ ہم اسے بھی تعیش قرار دیتے ہیں۔آج کل اخبارات میں بڑے بڑے لوگوں کی دعوتوں کا ذکر چھپتا ہے اور لکھا ہوتا ہے کہ یہ دعوت اتنی سادہ تھی، اتنی سادہ تھی کہ حد ہو گئی۔صرف شور با تھا، پنیر تھا، کچھ کباب تھے اور کچھ سیلڈ تھا۔اس طرح وہ تین چار کھانے گن دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ سادگی کی حد ہو گئی۔فلاں بادشاہ یا فلاں پریذیڈنٹ کے ہاں دعوت ہوئی اور اس دعوت میں صرف تین چار کھانے تیار ہوئے۔حالانکہ اگر ہم اسلامی طریق پر چلیں تو اتنے کھانے ہمارے نزدیک زمانہ امن کی بڑی بھاری دعوتوں میں ہونے چاہئیں۔روزانہ استعمال کے لئے اتناہی کافی ہوتا ہے کہ دال روٹی یا سالن روٹی یا دال یا سالن کے ساتھ چاول ہوں اور وہ کھانے کے لئے مل جائیں بلکہ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی محروم رہتے ہیں۔انہیں نہ دال میسر آتی ہے اور نہ گوشت۔وہ صرف اچار سے روٹی کھالیتے ہیں یالتی کے ساتھ روٹی کھا لیتے ہیں۔چنانچہ جن جن علاقوں میں اسلامی تمدن زیادہ عرصہ تک جاری رہا ہے وہاں یہی پرانا طریق اب تک جاری ہے۔سندھ میں چونکہ ایک لمبے عرصہ تک