خطبات محمود (جلد 24) — Page 159
$1943 159 خطبات محمود تو کمی کر رہے ہیں مگر شراب کے متعلق اب تک ان کا یہی خیال ہے کہ سپاہیوں کو شراب ضرور ملنی چاہیے۔بلکہ مجھے حیرت ہوئی کہ پچھلے دنوں پنجاب گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ اگر گھر میں چو بیس خالی بوتلوں سے زیادہ رکھی جائیں گی تو یہ جرم ہو گا کیونکہ سپاہیوں کے لئے شراب مہیا کرنے کے لئے بوتلوں کا ذخیرہ کافی نہیں ہے۔اب دیکھو یہ نتیجہ اس بات کا ہے کہ پینے میں اسراف سے کام لیا گیا ہے۔ہمارے ملک میں بھی بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو گوشراب نہیں پیتے مگر اور منشی اشیاء کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔چنانچہ ہندوستان میں تنزل اور ادبار کے زمانہ میں بھنگ پینے کا رواج بہت زور پکڑ گیا تھا۔سندھ میں اب تک یہ رواج پایا جاتا ہے۔چنانچہ بعض دوستوں نے سنایا کہ جس طرح پنجاب میں پولیس والے جب کہیں جاتے ہیں تو لوگوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے شربت شیرہ کا انتظام کرو اسی طرح سندھ میں پولیس والوں کی طرف سے پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے لئے سر دائی لاؤ۔مطلب یہ ہوتا ہے کہ بھنگ گھوٹ کر پلاؤ۔چنانچہ ان کے لئے بھنگ گھوٹی جاتی ہے اور انہیں پلائی جاتی ہے۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو اسراف میں شامل ہیں۔لا تسرفوا کا صرف یہ مطلب نہیں کہ اگر تم پانی پیو اور تمہیں ایک گلاس کی پیاس ہو تو تم دو گلاس نہ پیو۔یہ بھی معنے ہیں لیکن اس کے ایک اور معنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ ہم نے تمہارے پینے کے لئے پانی مقرر کر دیا ہے یہ اور بات ہے کہ کبھی ذائقہ کی درستی یا کسی اور طبعی ضرورت کے ماتحت شربت پی لیا جائے یا بوتل کا استعمال کر لیا جائے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہو تا کہ خدا تعالی کا پیدا کر دہ پانی ہمارے پینے کے لئے کافی نہیں۔یوں تو ہم میں سے ہر شخص کبھی لیمونیڈ استعمال کر لیتا ہے، کبھی شربت بنا کر پی لیتا ہے مگر یہ نہیں ہوتا کہ اگر لیمونیڈ یا شربت نہ ملے اور انسان سفر پر ہو یا کسی ایسے علاقہ میں ہو جہاں یہ چیزیں میسر نہ آسکتی ہوں تو ہم تکلیف محسوس کریں ہمیں اگر لیمونیڈ نہ ملے گا یا شربت نہ ملے گا تو ہمیں اس سے ذرہ بھی تکلیف نہیں ہو گی کیونکہ ہم پینے کے لئے پانی کافی سمجھیں گے لیکن شرابی کی یہ حالت نہیں ہوتی۔بھنگ والے کو جب تک بھنگ نہ پلائی جائے، شراب والے کو جب تک شراب نہ ملے اور اس کا نشہ پورا نہ ہو اسے تکلیف ہی تکلیف رہتی ہے اور کسی چیز میں مزا نہیں آتا۔غرض اسلام نے ہمارے لئے زندگی کا ایک ایسا معیار مقرر کر دیا ہے جس سے ہر زمانہ