خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 158

خطبات محمود 158 $1943 آپ نے میری خدمت کی۔اب میں آپ کے اس احسان کو اتارنے کے لئے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ یہاں پانی بالکل نہ پیا کریں۔میرے باپ نے صرف ایک دفعہ پانی پیا تھا اور وہ اسی وقت مر گیا۔اس کے بعد میں نے آج تک کبھی پانی نہیں پیا۔صرف شراب پیتا ہوں۔آپ بھی یہاں پانی استعمال نہ کیا کریں۔اب دیکھو اس کے نزدیک شراب ایسی ضروری چیز تھی کہ شراب کے بغیر اس کا گزارہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔مگر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک طبعی ضرورت ہے۔یہ طبعی ضرورت نہیں بلکہ بعد میں اسے اپنی ضرورت بنالیا گیا ہے۔ہم ہمیشہ پانی پیتے ہیں اور ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ ہمیں پانی پی کر کتنا آرام اور کس قدر راحت حاصل ہوتی ہے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کو ٹھنڈے پانی کی بڑی خواہش ہوا کرتی تھی اور ان کا پانی پینے کا نظارہ بھی ایسا ہو تا تھا جو ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہوئے ہوتے تھے۔آپ کے صحابہ آپ کے ارد گرد ہوتے اور آپ مختلف باتیں بیان فرما رہے ہوتے۔جب بات زیادہ لمبی ہو جاتی تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم فرماتے کہ بھئی کوئی بڑی مسجد کے کنوئیں سے جا کر پانی لے آئے۔ان دنوں اس مسجد کے کنوئیں کا پانی بہت ٹھنڈا سمجھا جاتا تھا۔اس پر کوئی نوجوان اٹھتا اور وہ اس بڑی مسجد سے پانی لے کر پہنچ جاتا۔مولوی عبد الکریم صاحب لوٹے کو ہی منہ لگا دیتے اور پانی پینا شروع کر دیتے۔ان کا پانی پینا خود اپنی ذات میں ایک بڑا خوشکن نظارہ ہو تا تھا اور جس لطف سے وہ پانی پیتے تھے وہ مجھے آج تک نہیں بھولتا۔وہ پانی کے بڑے بڑے گھونٹ بھرتے اور غڑپ غڑپ کی آواز سنائی دیتی اور بار بار الْحَمْدُ لِله اَلْحَمْدُ لِلہ کہتے۔دو چار گھونٹ پی لیتے تو کہتے الْحَمْدُ للہ۔پھر دو چار گھونٹ پیتے اور کہتے الْحَمْدُ لِلہ۔غرض وہ پانی پینے میں ایسی راحت محسوس کرتے تھے کہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ دنیا کی ساری نعمتیں اس کنوئیں کے پانی میں شامل کر دی گئی ہیں۔یہ نتیجہ تھا اس قناعت کا جس کو جسم کی صحت کے متعلق قرآنی تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنا معیار مقرر کر لیا تھا۔اب ایسے علاقوں میں جہاں لوگ پانی پینے کے عادی ہوتے ہیں اگر شراب نہیں ملتی تو کسی کو خیال بھی نہیں آسکتا کہ کوئی تکلیف پہنچ رہی ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یورپین قومیں باوجود اس کے کہ جنگ ہو رہی ہے اور چیزوں میں