خطبات محمود (جلد 24) — Page 157
* 1943 157 خطبات محمود کلوا کے حکم کا پورا کرنے والا ہے لیکن اگر وہ کھانا تو اتنا ہی کھاتا ہے جتنی اسے بھوک ہوتی ہے لیکن وہ ایسی چیزیں اپنے کھانے میں شامل کر لیتا ہے جن کی جسم کو ضرورت نہیں ہوتی یا مضر ہونے کے لحاظ سے ان کا استعمال بے وقوفی ہوتا ہے تو وہ اسلامی احکام کے ماتحت اسراف کرنے والا قرار پائے گا کیونکہ اس نے کھانا زیادہ نہیں کھایا مگر اس نے کھانے کی ضروری قسموں پر زیادتی کر دی۔اسی طرح پینا ہے دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں کے رہنے والوں کو پینے کے لئے پانی میسر نہ آسکے۔پانی ایسی چیز ہے جو ہر جگہ مل جاتا ہے اور دنیا کے کسی علاقہ میں اگر مسلمانوں کو پینے کے لئے پانی میسر آجائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ضرورت پوری ہو گئی۔ہر مسلمان کے گھر میں ٹھنڈا پانی موجود ہوتا ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو اسے بغیر کسی محنت اور مشقت کے مل جاتی ہے۔اگر گھر میں پانی نہ ہو اور کنواں پاس ہو تو وہ کنوئیں سے پانی لے لیتا ہے یا جھجریاں بھر کر گھر میں رکھ لیتا ہے اور ذرا بھی محسوس نہیں کرتا کہ اس کی پینے کی ضرورت پوری نہیں ہوئی۔لیکن یورپ کے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اگر انہیں پینے کے لئے شراب میسر نہ آئے تو خواہ ان کے گھروں میں پانی کے گھڑے بھرے ہوئے ہوں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں پینے کی چیز نہیں ملی۔اب بظاہر یہ بھی ایک ضرورت ہے مگر اس کے ذمہ دار خدا اور اسکے رسول نہیں ہو سکتے کیونکہ انہوں نے اس چیز کو انسانی صحت اور اس کی روح کے لئے مضر ہونے کی وجہ سے ناجائز قرار دے رکھا ہے مگر یورپین لوگوں کو اس کی یہاں تک عادت ہو گئی ہے کہ بغیر شراب کے ان کا گزارہ ہی نہیں ہو سکتا اور وہ پانی پینا یوں سمجھتے ہیں جیسے کسی کو قید کر دیا جائے۔تو وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کی آزادی میں فرق آگیا۔جس طرح ایک قیدی قید کو اپنی آزادی میں فرق لانے والا سمجھتا ہے اسی طرح یورپین لوگوں کو اگر شراب نہ ملے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی آزادی میں فرق پید اہو گیا۔مفتی محمد صادق صاحب جب ولایت گئے تو انہوں نے وہاں سے ایک قصہ لکھا ، یا یہاں واپس آکر انہوں نے سنایا کہ ان کا انگلستان یا امریکہ میں ایک ہمسایہ بیمار ہو گیا اور انہوں نے اس کی کچھ خدمت کی۔مفتی صاحب کے اس سلوک کا اس پر بہت ہی اثر ہوا اور وہ بڑا ممنون ہوا۔جب وہ اچھا ہو گیا تو اس نے مفتی صاحب سے کہا کہ میں آپ کا بڑا ممنون ہوں کہ